تازہ ترین
ایران میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے، اپنے ہی ملکوں میں انتخابی دھچکے کھا گئے! ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی جھٹکاایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمسونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ؛ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی، کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے؟ایران میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے، اپنے ہی ملکوں میں انتخابی دھچکے کھا گئے! ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی جھٹکاایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمسونے کی قیمت میں اچانک بڑا اضافہ؛ تمام ریکارڈ ٹوٹ گئےڈیموکریٹس نے کانگریس اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلی، کیا ٹرمپ کو صدارت سے ہٹایا جاسکتا ہے؟
پاکستان

خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظم

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید

اسلام آباد (جی ٹی وی نیوز اردو): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کے فوڈ سبسڈی پروگرام سے اب تک ڈیڑھ کروڑ افراد ٹوکن استعمال کرکے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ ایک خاندان کے اوسطاً پانچ افراد کے حساب سے تقریباً ساڑھے 7 کروڑ شہری اس منصوبے سے مستفید ہوئے ہیں۔ پروگرام پر اب تک 28 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں اور اسے دسمبر کے آخر تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے فوڈ سبسڈی پروگرام کو کامیاب اور شفاف قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس منصوبے کو کم از کم دسمبر کے اختتام تک جاری رکھے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔ متعلقہ ادارے پروگرام کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سامنے آنے پر کارروائی کی جائے گی۔

وزیراعظم نے پیٹرول پمپس پر گڑبڑ اور بے ضابطگیوں کا بھی نوٹس لیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلاف ورزیوں میں ملوث پیٹرول پمپس کو صرف بند کرنے پر اکتفا نہیں کیا جائے گا بلکہ ان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے تاکہ دوسرے پیٹرول پمپ مالکان کے لیے بھی مثال قائم ہو۔ شہباز شریف نے کہا کہ دہائیوں سے سرگرم مافیا کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب ہر کام شفافیت کے ساتھ کیا جائے گا۔

خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں

وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی حالات کے باعث خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا ہوا ہے، جس کے اثرات قیمتوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پہلے کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر اہم کوششیں کی ہیں۔ ان کوششوں میں فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورے بھی شامل ہیں، جن کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے رابطوں کو آگے بڑھانا تھا۔

شہباز شریف کے مطابق سعودی عرب کے تعاون سے ترکیہ کے نمائندے ابراہیم قالن کی تہران میں ہونے والی بات چیت بھی ان سفارتی رابطوں کا حصہ تھی۔ ان کوششوں کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے ساتھ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی معاہدے کو آگے بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کرنا بھی تھا۔

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا دباؤ کم کرنے کی کوشش

وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے بتایا کہ گزشتہ جمعے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان تھا، تاہم وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ان کی ٹیم نے اس معاملے پر ذمہ داری کے ساتھ کام کیا تاکہ عالمی حالات کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کے باوجود عام آدمی پر اضافی مالی بوجھ کم کیا جاسکے۔

وزیراعظم کے بیان کے مطابق حکومت ایک جانب فوڈ سبسڈی پروگرام کے ذریعے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مارکیٹ میں بے ضابطگیوں کے معاملات پر بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔