واشنگٹن / تل ابیب (جی ٹی وی نیوز اردو) — 4 نومبر 2026: ایران میں حکومت کی تبدیلی اور تہران کی سیاسی و عسکری طاقت ختم کرنے کے عزائم کے ساتھ جنگ شروع کرنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو اب اپنے ہی ملکوں میں بڑے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔
امریکا میں وسط مدتی انتخابات نے ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں سے محروم کردیا، جبکہ اسرائیل میں نیتن یاہو کا حکمران اتحاد بھی پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
یہ نتائج ایک غیرمعمولی سیاسی تضاد کو نمایاں کرتے ہیں: دونوں رہنما ایران کی قیادت کے مستقبل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے تھے، لیکن ان کی اپنی سیاسی طاقت انتخابی نتائج کے بعد دباؤ میں آگئی ہے۔
امریکا میں ٹرمپ کی جماعت کو تاریخی شکست
3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔
امریکی ووٹروں کے فیصلے میں ایران کے خلاف جنگ، بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی کی قیمتیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی اہم عوامل رہے۔
ٹرمپ نے خود تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے ری پبلکن پارٹی کے انتخابی نقصان میں کردار ادا کیا۔
تاہم انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا۔
نیتن یاہو بھی پارلیمانی اکثریت سے محروم
دوسری جانب 27 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی پارلیمنٹ میں 53 نشستیں حاصل ہوئیں۔
حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستیں ضروری ہیں۔
مخالف اتحاد نے 48 جبکہ عرب قیادت والی جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔
اس طرح نیتن یاہو کا اتحاد اپنی پارلیمانی اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام رہا، لیکن اپوزیشن بھی فی الحال واضح اکثریت کے ساتھ نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں۔
نیتن یاہو عبوری وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی مذاکرات جاری ہیں۔
ایران میں حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ کہاں پہنچا؟
ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی قیادت کی جانب سے تہران کی عسکری صلاحیت محدود کرنے اور ایرانی قیادت کو کمزور کرنے کے اعلانات سامنے آتے رہے۔
لیکن کئی ماہ کی جنگ کے باوجود ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل نہیں ہوا۔
اس کے برعکس جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات اب امریکا اور اسرائیل کی داخلی سیاست میں بھی نمایاں ہیں۔
امریکا میں ووٹروں نے حکمران جماعت کو کانگریس کی اکثریت سے محروم کردیا، جبکہ اسرائیل میں نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل اتحادی مذاکرات سے مشروط ہوگیا ہے۔
جنگ میدان سے نکل کر بیلٹ باکس تک پہنچ گئی
ایران کے خلاف جنگ کے اثرات صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہے۔
امریکا میں جنگ کے اخراجات اور مہنگائی انتخابی بحث کا اہم حصہ بنے، جبکہ اسرائیل میں جنگ، قومی سلامتی، حکومتی کارکردگی اور نیتن یاہو کی قیادت کے مستقبل پر شدید سیاسی اختلافات سامنے آئے۔
تاہم دونوں ممالک کے انتخابی نتائج کو صرف ایران جنگ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ داخلی معاشی مسائل، حکومتی فیصلوں اور سیاسی اختلافات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
تاریخ کا غیرمعمولی سیاسی تضاد
ایران کی حکومت کو کمزور کرنے کے خواہش مند دونوں رہنماؤں کے لیے اب اپنی سیاسی طاقت برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان بن گیا ہے۔
ٹرمپ کی صدارت برقرار ہے، لیکن جنوری 2027 سے انہیں مخالف جماعت کی اکثریت والی کانگریس کا سامنا ہوگا۔
نیتن یاہو بھی ابھی اقتدار سے باہر نہیں ہوئے، لیکن انہیں نئی حکومت بنانے کے لیے مزید سیاسی حمایت درکار ہے۔
یوں ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب دونوں میں سیاسی توازن بدل گیا ہے۔





