تازہ ترین
پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں اہم پیش رفت، بات چیت کو عملی کاروباری معاہدوں میں بدلنے کا عزمایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیپاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں اہم پیش رفت، بات چیت کو عملی کاروباری معاہدوں میں بدلنے کا عزمایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی
دنیا

ایرانی حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا، میڈیا رپورٹ

امریکی اڈوں

مشرق وسطیٰ میں ایران کے دو درجن سے زائد امریکی اڈوں پر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں امریکی عسکری آلات اور عمارتوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے متعدد سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے اور خطے کے چار سرکاری عہدیداروں کے ساتھ گفتگو کی بنیاد پر بتایا کہ اگست تک ایران یا اس کے حامی گروپوں کی جانب سے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 26 سے زائد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ حملوں کا بنیادی ہدف طیاروں کے ہینگرز اور آنے والے حملوں کا پتہ لگانے والے دفاعی سسٹمز تھے۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر حملے کویت میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے، تاہم بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی مقامات بھی حملوں کی زد میں آئے۔

کویت میں علی السالم ایئر بیس پر کم از کم 30 مرتبہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 15 طیارہ ہینگرز اور متعدد گودام تباہ ہو گئے۔

پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ان اطلاعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی افواج اور اڈے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور امریکی فوج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔