مشرق وسطیٰ میں ایران کے دو درجن سے زائد امریکی اڈوں پر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں امریکی عسکری آلات اور عمارتوں کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے متعدد سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے اور خطے کے چار سرکاری عہدیداروں کے ساتھ گفتگو کی بنیاد پر بتایا کہ اگست تک ایران یا اس کے حامی گروپوں کی جانب سے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں 26 سے زائد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ حملوں کا بنیادی ہدف طیاروں کے ہینگرز اور آنے والے حملوں کا پتہ لگانے والے دفاعی سسٹمز تھے۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر حملے کویت میں واقع امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے، تاہم بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی مقامات بھی حملوں کی زد میں آئے۔
کویت میں علی السالم ایئر بیس پر کم از کم 30 مرتبہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں 15 طیارہ ہینگرز اور متعدد گودام تباہ ہو گئے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ان اطلاعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی افواج اور اڈے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور امریکی فوج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔






