سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف نے خبردار کیا ہے کہ شدید معاشی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے باوجود ایران امریکہ کے خلاف طویل مدتی تنازع جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف ڈین ہافمین نے کہا کہ تہران کے حکام نے واشنگٹن کی شرائط پر مذاکرات کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی خاص آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔
انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس، قطری ثالثوں اور دیگر علاقائی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا کہ ایرانی قیادت اس جنگ کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت معاشی مشکلات برداشت کرنے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔
ڈین ہافمین نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ فضائی حملے شروع کیے تو ایران سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے ان تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کرنی ہوگی۔






