تازہ ترین
پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں اہم پیش رفت، بات چیت کو عملی کاروباری معاہدوں میں بدلنے کا عزمایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیپاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں اہم پیش رفت، بات چیت کو عملی کاروباری معاہدوں میں بدلنے کا عزمایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی
دنیا

ایران جھکنے پر تیار نہیں، وہ امریکہ کے خلاف طویل جنگ لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے، سابق سی آئی اے عہدیدار

طویل

سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف نے خبردار کیا ہے کہ شدید معاشی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے باوجود ایران امریکہ کے خلاف طویل مدتی تنازع جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سی آئی اے کے سابق اسٹیشن چیف ڈین ہافمین نے کہا کہ تہران کے حکام نے واشنگٹن کی شرائط پر مذاکرات کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی خاص آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس، قطری ثالثوں اور دیگر علاقائی رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں مل رہا کہ ایرانی قیادت اس جنگ کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت معاشی مشکلات برداشت کرنے کے باوجود مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔

ڈین ہافمین نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ فضائی حملے شروع کیے تو ایران سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو کسی بھی فوجی کارروائی سے پہلے ان تمام خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کرنی ہوگی۔