ڈونلڈ ٹرمپ جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ تعلقات کی خبروں پر وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ ہار گئے، امریکی صدر عدالت میں کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔
امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے میڈیا موگل روپرٹ مرڈوک اور وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اربوں ڈالر کا ہتکِ عزت کا مقدمہ خارج کردیا۔
میامی کے وفاقی جج ڈارین گیلز نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صدر ڈونلڈ ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے ضروری قانونی معیار یعنی اصلی بدنیتی کو ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
امریکی قانون کے مطابق ہتکِ عزت کے مقدمے میں یہ ثابت کرنا لازمی ہوتا ہے کہ مدعا علیہ نے جان بوجھ کر یا حقائق سے لاپرواہی برتتے ہوئے کوئی جھوٹا بیان شائع کیا۔
جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ٹرمپ کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف 10 ارب ڈالر کا مقدمہ دراصل کمزور دلائل پر مبنی تھا۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ اس خبر سے متعلق تھا، جو وال اسٹریٹ جرنل نے جولائی 2025 میں شائع کی تھی، جس میں آنجہانی مالیاتی شخصیت جیفری ایپسٹین کے ساتھ صدر ٹرمپ کے مبینہ تعلقات اور 2003 کی ایک سالگرہ کے نوٹ کا ذکر کیا گیا تھا۔
اس نوٹ پر مبینہ طور پر ٹرمپ کے دستخط بتائے گئے تھے، جسے صدر ٹرمپ نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے اخبار کی کوریج کو جھوٹا اور بدنام کن قرار دیا تھا۔
اس سے قبل اپریل میں بھی جج نے مقدمہ خارج کر کے ٹرمپ کو نئی درخواست دائر کرنے کا موقع دیا تھا، لیکن تازہ ترین فیصلے نے اس قانونی جنگ کا مستقل خاتمہ کر دیا ہے۔






