تازہ ترین
پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں اہم پیش رفت، بات چیت کو عملی کاروباری معاہدوں میں بدلنے کا عزمایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیپاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں اہم پیش رفت، بات چیت کو عملی کاروباری معاہدوں میں بدلنے کا عزمایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانی
دنیا

سی آئی اے سربراہ کی ٹرمپ کو ایران کیخلاف ’نہ جنگ نہ معاہدہ‘ کی پالیسی جاری رکھنے کی تجویز

سی آئی اے سربراہ

سی آئی اے سربراہ نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نہ جنگ، نہ معاہدہ کی پالیسی جاری رکھیں تاکہ معاشی دباؤ سے اندرونی بغاوت کو جنم دیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تجویز دی ہے کہ وہ تہران کے خلاف اپنی سخت معاشی دباؤ کی مہم جاری رکھیں۔ اس حکمت عملی کے تحت امریکہ کو ایران کے ساتھ نہ تو مکمل جنگ میں الجھنا چاہیے اور نہ ہی کوئی جلدی معاہدہ کرنا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق جان ریٹکلف کا ماننا ہے کہ مسلسل معاشی تنگی کی وجہ سے ایرانی حکومت یا تو امریکی شرائط ماننے پر مجبور ہو جائے گی یا پھر ملک میں شدید اندرونی عدم استحکام پیدا ہوگا، جس کے نتیجے میں ایرانی عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔