لاہور میں اسموگ اور فضائی آلودگی کی شدت میں اضافے نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
خاص طور پر اسکول جانے والے بچوں کی صحت کے حوالے سے والدین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ آلودگی کی بڑھتی ہوئی سطح کے باعث یہ سوال بھی سامنے آ رہا ہے کہ کیا حکومت بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اسکول بند کرنے کا فیصلہ کرے گی؟
رپورٹ کے مطابق صبح 8 بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 358 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ سطح انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔ اس دوران لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر بھی آ گیا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق شہر کی فضا میں باریک آلودہ ذرات کی مقدار 254 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ یہ ذرات سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں اور صحت کے مختلف مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو روزانہ صبح اسکول جانا پڑتا ہے۔ اس دوران انہیں آلودہ فضا میں سفر کرنا پڑتا ہے اور کئی گھنٹے اسکول میں بھی گزارنے ہوتے ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ اسموگ کی موجودہ صورتحال بچوں میں کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے بھی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق آلودہ فضا میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ باہر جاتے وقت مناسب ماسک استعمال کریں اور خاص طور پر بچوں کو زیادہ دیر کھلی فضا میں کھیلنے سے روکیں۔ آنکھوں میں جلن یا سانس لینے میں دشواری کی صورت میں طبی مشورہ لینا بھی ضروری ہے۔
کیا لاہور میں اسموگ کے باعث اسکول بند ہوں گے؟
اسموگ کی خطرناک صورتحال کے باوجود تاحال پنجاب حکومت کی جانب سے اسکولوں کی بندش کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس وقت تعلیمی اداروں کو معمول کے مطابق کھلا رکھنے یا تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔
حکام کے مطابق اگر فضائی آلودگی کی سطح میں کمی نہ آئی تو بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان اقدامات میں اسکولوں کی عارضی بندش یا تعلیمی اداروں کے اوقات کار میں تبدیلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
فی الحال والدین اور طلبہ حکومت کے حتمی فیصلے کے منتظر ہیں۔ اسکولوں کی بندش سے متعلق کسی بھی تبدیلی کا اطلاق سرکاری اعلان کے بعد ہی ہوگا۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اسکول انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات پر نظر رکھیں۔





