جنوبی وزیرستان میں سرکاری تعلیمی اداروں کی مبینہ بدحالی اور تدریسی نظام میں بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات سامنے آئی ہیں۔
مقامی شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ علاقے کے متعدد سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری یقینی نہیں بنائی جاسکی، جبکہ بعض تعلیمی عمارتیں تدریسی سرگرمیوں کے بجائے دیگر مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بعض اسکولوں میں اساتذہ کی مسلسل غیر حاضری کے باعث بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جو مبینہ طور پر ڈیوٹی پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں، جس سے سرکاری تعلیمی نظام کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔
مقامی افراد نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ بعض اسکولوں کی عمارتیں تعلیمی سرگرمیوں کے بجائے حجروں کے طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان کے بقول جن عمارتوں کو بچوں کی تعلیم اور مستقبل سنوارنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا، وہاں تدریسی سرگرمیوں کا مؤثر نظام موجود نہیں۔
جنوبی وزیرستان جیسے قبائلی علاقے میں تعلیم پہلے ہی متعدد انتظامی اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کا سامنا کرتی رہی ہے۔ اسکولوں کی عمارتوں کی حالت، اساتذہ کی دستیابی، تعلیمی سہولتوں کی کمی اور دور دراز علاقوں تک رسائی ایسے مسائل ہیں جو بچوں کے تعلیمی مستقبل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی حاضری کی نگرانی اور تعلیمی اداروں کے استعمال کا مؤثر نظام قائم ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اساتذہ ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوتے تو اس کا براہ راست نقصان طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ سرکاری وسائل بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہتے ہیں۔
مقامی آبادی نے متعلقہ محکمہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے سرکاری اسکولوں کا فوری معائنہ کیا جائے، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے اور تعلیمی عمارتوں کو ان کے اصل مقصد کے لیے استعمال کرنے کو یقینی بنایا جائے۔
شہریوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں کی حاضری، تدریسی سرگرمیوں اور بنیادی سہولتوں کی صورتحال کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم ہوسکیں۔




