تازہ ترین
کراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہکراچی جرائم پیشہ افراد کے نرغے میں، 8 ماہ میں 51 ہزار سے زائد وارداتیں، 456 افراد قتلسندھ کے تمام نجی اسکولوں کی گاڑیوں میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی عائدسندھ بھر میں 40 فیصد سے زائد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، رپورٹواٹس ایپ میں بڑی تبدیلی کی تیاری، صارفین اب پروفائل پر کور فوٹو بھی لگا سکیں گےامریکہ اور ایران اسلام آباد معاہدے پر واپس آئیں، خلیج کو بڑی طاقتوں کے تنازعے کا میدان نہیں بننا چاہیے: چینی صدربحری ناکہ بندی کے خاتمے اور مطالبات پورے ہونے تک امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہوگا، ایرانبلاول بھٹو کو وزیراعظم بننے کی دو بار پیشکش ہوئی، قمر زمان کائرہ کا اہم انکشافڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کیا جائے، وزیر خزانہ
تعلیم

بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر فراڈ سے کیسے بچیں؟ ایجوکیشن ایجنٹس کی 5 خطرناک نشانیاں سامنے آگئیں

بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا بہت سے پاکستانی طلبہ و طالبات کا خواب ہے۔ اس مقصد کے لیے کئی طلبہ ایجوکیشن ایجنٹس اور کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔

تاہم بعض افراد اس خواہش کا فائدہ اٹھا کر طلبہ کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ اسی خطرے کے پیش نظر مائیگرنٹ ریسورس سینٹر پاکستان (MRCP) نے طلبہ کو فراڈ سے بچانے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔

ادارے نے اپنے آگاہی پیغام میں ایجوکیشن ایجنٹس اور کنسلٹنٹس کی پانچ ایسی نشانیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے کسی بھی کنسلٹنٹ کی خدمات لینے سے پہلے اس کی ساکھ اور فراہم کردہ معلومات کی اچھی طرح تصدیق کریں۔

پہلی نشانی: ویزا کی 100 فیصد گارنٹی

اگر کوئی ایجنٹ یا کنسلٹنٹ ویزا لگنے کی 100 فیصد ضمانت دے تو اسے خطرے کی علامت سمجھیں۔ بعض افراد طلبہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کا ویزا لازمی منظور ہو جائے گا یا وہ ڈن بیسز پر کام کرتے ہیں۔ حالانکہ کنسلٹنٹ کا کام درخواست اور ضروری دستاویزات تیار کرنے میں مدد دینا ہوتا ہے۔ ویزا منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ متعلقہ سفارت خانے یا امیگریشن حکام کرتے ہیں۔ اس لیے ویزا کی یقینی منظوری کے دعوے پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری نشانی: فوری فیس جمع کرانے کا دباؤ

اگر کوئی ایجنٹ یہ کہہ کر فوری رقم جمع کرانے پر زور دے کہ ابھی ادائیگی نہ کی تو داخلہ یا ویزا کا موقع ہاتھ سے نکل جائے گا تو محتاط رہیں۔ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے کئی مراحل مکمل کرنا پڑتے ہیں۔ ان میں دستاویزات کی تیاری اور تصدیق، بینک اسٹیٹمنٹ، بلاک اکاؤنٹ اور ویزا اپائنٹمنٹ شامل ہو سکتے ہیں۔ ان تمام مراحل میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے جلد بازی میں رقم ادا کرنے کے بجائے پہلے تمام معلومات کی تصدیق کریں۔

تیسری نشانی: یونیورسٹی کی منظوری کی تصدیق نہ ہونا

داخلے کا آفر لیٹر یا کنفرمیشن لیٹر ملنے کے بعد فوراً فیس جمع نہ کروائیں۔ پہلے یہ معلوم کریں کہ یونیورسٹی مستند ہے اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے منظور شدہ ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس اور متعلقہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی ادارے کے سرکاری پورٹل سے معلومات حاصل کریں۔ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بھی داخلے اور آفر لیٹر کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

چوتھی نشانی: ایجنٹ کے ذاتی اکاؤنٹ میں فیس جمع کروانا

طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ یونیورسٹی کی ٹیوشن فیس کسی ایجنٹ یا کنسلٹنٹ کے ذاتی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے سے گریز کریں۔ بہتر ہے کہ یونیورسٹی سے براہِ راست رابطہ کیا جائے اور فیس جمع کرانے کا مستند طریقہ معلوم کیا جائے۔ رقم ہمیشہ یونیورسٹی کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ادا کریں۔ اس کے ساتھ ویزا مسترد ہونے کی صورت میں فیس کی واپسی کی پالیسی بھی پہلے سے معلوم کر لیں۔

پانچویں نشانی: غیر تصدیق شدہ ادائیگیاں اور جعلی دستاویزات

سوشل میڈیا یا واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایسے کنسلٹنٹس سے محتاط رہیں جن کی شناخت اور کاروباری حیثیت واضح نہ ہو۔ کسی بھی شخص کے ساتھ کام شروع کرنے سے پہلے اس کا تجربہ، ساکھ اور کام کرنے کا ریکارڈ چیک کریں۔

خاص طور پر ایسے ایجنٹس سے دور رہیں جو جعلی بینک اسٹیٹمنٹ یا دوسری جعلی دستاویزات تیار کرنے کی پیشکش کرتے ہیں۔ مائیگرنٹ ریسورس سینٹر کے مطابق جعلی دستاویزات استعمال کرنے سے ویزا مسترد ہو سکتا ہے اور مستقبل میں بلیک لسٹ ہونے جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

مائیگرنٹ ریسورس سینٹر پاکستان نے طلبہ کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونِ ملک تعلیم کے لیے کسی ایجنٹ کو رقم دینے یا اپنی ذاتی دستاویزات فراہم کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کریں۔ کسی بھی غیر معمولی دعوے، فوری ادائیگی کے مطالبے یا ویزا کی گارنٹی پر اعتماد کرنے کے بجائے متعلقہ یونیورسٹی اور سرکاری اداروں سے معلومات کی تصدیق کریں۔