ورزش کو اچھی صحت اور تندرستی کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ جسمانی سرگرمیاں کرنے سے کئی بیماریوں کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لیکن کیا مردوں اور خواتین کو ورزش سے یکساں فائدہ ہوتا ہے؟ بیلجیئم میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔
بیلجیئم کی یونیورسٹی UCLouvain کے محققین کے مطابق صحت مند طرز زندگی کی عادات مردوں اور خواتین پر مختلف اثرات مرتب کرتی ہیں۔ تحقیق میں سامنے آیا کہ اگر مرد اور خواتین ایک جتنی ورزش کریں تو خواتین کو جسمانی سرگرمیوں سے نسبتاً زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔
اس تحقیق کے لیے یورپ کے 12 ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ یہ معلومات یورپین سروے آف ہیلتھ، ایجنگ اینڈ ریٹائرمنٹ اِن یورپ کے تحت جمع کی گئی تھیں۔ محققین نے ان افراد کی صحت اور رہن سہن سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق جسمانی سرگرمیوں کی کمی مردوں کی صحت پر زیادہ منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ یعنی اگر مرد باقاعدگی سے ورزش نہ کریں تو ان کی صحت میں خواتین کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خرابی آنے کا امکان ہوتا ہے۔
دوسری جانب پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال خواتین کی صحت کو زیادہ متاثر کر سکتا ہے۔ محققین کے مطابق خوراک کی ان اہم چیزوں کی کمی خواتین کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس پھل اور سبزیاں کھانے سے مردوں کی صحت کو نسبتاً زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تحقیق میں سماجی اور معاشی حالات کا صحت سے تعلق بھی سامنے آیا۔ محققین نے بتایا کہ لوگوں کے معاشی حالات اور سماجی زندگی ان کی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ تعلق خواتین میں زیادہ واضح دیکھا گیا۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سوشل سائنس اینڈ میڈیسن میں شائع ہوئے۔ اس سے پہلے 2025 میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی خواتین اور مردوں کے درمیان ورزش کے اثرات کا فرق سامنے آیا تھا۔ اس تحقیق کے مطابق کم جسمانی سرگرمی کے باوجود خواتین میں ورزش سے امراض قلب کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ کم ہو سکتا ہے۔
مجموعی طور پر نئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ورزش اور صحت مند غذا دونوں مردوں اور خواتین کے لیے اہم ہیں، تاہم ان کے اثرات میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس لیے متوازن خوراک اور باقاعدہ جسمانی سرگرمیوں کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔






