فالج ایک سنگین طبی حالت ہے جس میں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہونے سے دماغی خلیات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فالج کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔
نیند کے معمولات اور دل و دماغ کی صحت کے درمیان تعلق پر مختلف تحقیقات کی گئی ہیں۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ہارورڈ میڈیکل اسکول سے منسوب تحقیق میں ہفتہ وار تعطیلات کے دوران دیر سے سونے سمیت نیند کے بے قاعدہ معمولات کو امراض قلب کے خطرے سے منسلک کیا گیا ہے۔
تحقیق میں نیند کے معمولات کا جائزہ
رپورٹ کے مطابق تحقیق میں 10 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں نیند کے دورانیے، معیار اور سونے جاگنے کے اوقات کا جائزہ لیا گیا۔
شرکاء کی نیند سے متعلق معلومات ٹریکنگ ڈیوائسز کے ذریعے جمع کی گئیں اور مختلف دنوں میں سونے اور جاگنے کے اوقات کا موازنہ کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ سونے جاگنے کے وقت میں مسلسل بے قاعدگی امراض قلب، ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیلیئر اور فالج کے خطرے میں اضافے سے منسلک ہوسکتی ہے۔ تاہم تحقیق کے نتائج کو کسی فرد کے لیے یقینی خطرے یا تشخیص کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔
نیند کا مستقل معمول کیوں اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق صرف نیند کے گھنٹوں کی تعداد ہی اہم نہیں، بلکہ سونے اور جاگنے کا وقت بھی جسمانی صحت اور روزمرہ کارکردگی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔
تعطیلات کے دوران دیر تک جاگنا اور معمول سے بہت مختلف وقت پر بیدار ہونا جسم کی اندرونی گھڑی کو متاثر کرسکتا ہے۔ مستقل معمول رکھنے سے نیند کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بہتر نیند کے لیے احتیاطی تدابیر
روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونے اور جاگنے کی کوشش کریں۔ رات کو موبائل فون اور دیگر اسکرینز کا استعمال محدود رکھیں، جبکہ پرسکون ماحول میں نیند حاصل کرنے کو ترجیح دیں۔
دل کی صحت کے لیے نیند کے ساتھ متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور بلڈ پریشر سمیت دیگر طبی عوامل پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
اگر فالج کی علامات مثلاً اچانک چہرے کا ایک طرف جھک جانا، بازو میں کمزوری یا بولنے میں دشواری ظاہر ہو تو فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں۔






