تازہ ترین
امریکا ایران کو تقسیم کرنا اور اس کی ہزاروں سال پرانی تہذیب تباہ کرنا چاہتا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کا دوٹوک پیغامبینک آف پنجاب نے پاکستان کے پہلے ماسٹرکارڈ ورلڈ ایلیٹ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز متعارف کرا دیےایران میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے، اپنے ہی ملکوں میں انتخابی دھچکے کھا گئے! ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی جھٹکاایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظمامریکا ایران کو تقسیم کرنا اور اس کی ہزاروں سال پرانی تہذیب تباہ کرنا چاہتا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کا دوٹوک پیغامبینک آف پنجاب نے پاکستان کے پہلے ماسٹرکارڈ ورلڈ ایلیٹ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز متعارف کرا دیےایران میں رجیم چینج کرنے نکلے تھے، اپنے ہی ملکوں میں انتخابی دھچکے کھا گئے! ٹرمپ اور نیتن یاہو کے لیے بڑا سیاسی جھٹکاایران نے 46 سال بعد پھر امریکی سیاست کا نقشہ بدل دیا؟ جمی کارٹر کے بعد ٹرمپ کو بھی انتخابی دھچکا، تاریخ کا حیران کن اتفاق!تاریخ خود کو دہرا رہی ہے! ایران نے پہلے جمی کارٹر کی صدارت ختم کی، اب ٹرمپ کی باری؟ مشاہد حسین سید کا بڑا دعویٰوزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیفوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بہترین ESG رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاخطے میں قیام امن کیلئے پاکستان بھرپور کردار ادا کررہا ہے؛ وزیر اعظم
دنیا

امریکا ایران کو تقسیم کرنا اور اس کی ہزاروں سال پرانی تہذیب تباہ کرنا چاہتا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای کا دوٹوک پیغام

سید مجتبیٰ خامنہ ای

تہران (جی ٹی وی نیوز اردو) — 4 نومبر 2026: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے خلاف انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کا موجودہ مقصد صرف ایرانی حکومت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ملک کو تقسیم کرنا، ایرانی قوم کو محکوم بنانا اور اس کی قدیم تہذیب کو تباہ کرنا ہے۔

ایران میں عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کے موقع پر جاری خصوصی پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات محض حالیہ جنگ یا سیاسی تنازعات کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی جڑیں سات دہائیوں سے زیادہ پرانی ہیں۔

’’امریکا کا اصل مقصد ایران کو اپنے تابع بنانا ہے‘‘

مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی حکمران مسلسل ایران کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے اور ایرانی قوم کو جھکانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا نے اب اپنے بین الاقوامی دعوؤں اور سفارتی پردوں کو بھی ایک طرف رکھ دیا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن ایران کے سیاسی نظام کو ختم کرنے، ملک کو تقسیم کرنے اور اس کی تاریخی تہذیب کو نقصان پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکی حکمرانوں کی دشمنی کا بنیادی سبب ایران کی خودمختاری اور غیرملکی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار ہے۔

1953 کی بغاوت، ایرانی وسائل اور امریکی کردار کا حوالہ

اپنے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے 1953 میں ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کے خلاف بغاوت کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی ایران کے خلاف مداخلت کا آغاز سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ پہلے ہوا، جب واشنگٹن نے ایران کے قومی وسائل، خصوصاً تیل پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی تبدیلی میں کردار ادا کیا۔

1953 میں مصدق حکومت کے خلاف بغاوت میں امریکی سی آئی اے اور برطانوی خفیہ اداروں کا کردار تاریخی دستاویزات میں تسلیم شدہ ہے۔

خامنہ ای نے اس واقعے کو ایران کے خلاف امریکی مداخلت کی طویل تاریخ کی بنیاد قرار دیا۔

علیحدگی پسند گروہوں اور مجاہدین خلق کی حمایت کا الزام

ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا پر علیحدگی پسند گروہوں، حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے والوں اور مجاہدین خلق تنظیم کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے سائنس دانوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کی سرپرستی بھی ایران کے خلاف دشمنانہ اقدامات کا حصہ رہی ہے۔

یہ الزامات ایرانی قیادت کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ مختلف واقعات میں ذمہ داری اور بیرونی معاونت کے دعوؤں کا الگ الگ شواہد کی بنیاد پر جائزہ ضروری ہے۔

’’امریکی حکومت بدلنے سے ایران دشمنی ختم نہیں ہوگی‘‘

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ پیغام میں کہا کہ یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ امریکا میں کسی سیاسی جماعت یا صدر کی تبدیلی سے ایران کے خلاف واشنگٹن کی بنیادی پالیسی تبدیل ہوجائے گی۔

انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ایران کی جانب سے رعایتیں دینے کے باوجود امریکی دشمنی ختم ہونے کی ضمانت نہیں۔

ان کے مطابق ایران کے لیے حقیقی تحفظ کا راستہ قومی طاقت، اتحاد اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہے۔

دوبارہ حملہ ہوا تو ایران کا جواب زیادہ سخت ہوگا

ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا کو خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ فوجی جارحیت کی گئی تو تہران پہلے سے زیادہ وسیع ردعمل دے سکتا ہے۔

انہوں نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات کو امریکی کارروائیوں کے جواب کے طور پر پیش کیا۔

خامنہ ای کے مطابق ایران کی دفاعی حکمت عملی کا مقصد مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر مزاحمتی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔

ایرانی قوم کو اتحاد برقرار رکھنے کی ہدایت

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی عوام اور حکومتی عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں۔

انہوں نے حکام سے عوام کی معاشی مشکلات، روزگار اور عزتِ نفس کے تحفظ پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان، طلبہ اور نئی نسل ایران کے مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

4 نومبر ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟

ایران میں ہر سال 4 نومبر کو عالمی استکبار کے خلاف جدوجہد کے قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

اس تاریخ کو 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے واقعے سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ 1964 میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جلاوطنی اور 1978 میں طلبہ کے خلاف کارروائی بھی اس دن کی تاریخی اہمیت کا حصہ ہیں۔

اس سال یہ دن ایسے وقت میں منایا جارہا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششوں کے ساتھ نئی فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا تازہ پیغام واضح کرتا ہے کہ تہران امریکی دباؤ کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت اور قومی اتحاد کو مرکزی اہمیت دے رہا ہے۔