محکمہ ثقافت و سیاحت سندھ نے آڈٹ رپورٹ سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس خسارے میں نہیں بلکہ 4 کروڑ 90 لاکھ روپے کے منافع میں ہیں۔
ترجمان محکمہ ثقافت و سیاحت و نوادرات سندھ نے سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس کو خسارے میں دکھانے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی رپورٹ کا حوالہ دے کر میڈیا میں پیش کی جانے والی معلومات گمراہ کن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آڈیٹر جنرل کی جس آڈٹ رپورٹ کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ دراصل مالی سال 2022-23 سے متعلق ہے نہ کہ موجودہ سال کی۔
ترجمان نے مالی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ ٹورازم کے تمام ریزورٹس، ہوٹلز اور موٹلز نے مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 9 کروڑ 41 لاکھ روپے کی آمدن حاصل کی ہے۔
اس کے مقابلے میں ایس ٹی ڈی سی کے ریزورٹس پر ہونے والے مجموعی اخراجات کا حجم 4 کروڑ 51 لاکھ روپے رہا ہے۔ اس طرح کارپوریشن نے مالی سال 2024-25 میں 4 کروڑ 90 لاکھ روپے کا مثبت مالیاتی آپریٹنگ بیلنس یعنی منافع حاصل کیا ہے۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ سیاحتی ریزورٹس کو 2 کروڑ 23 لاکھ روپے کے خسارے میں ظاہر کرنا بلکل غلط اور حقیقت کے منافی ہے۔
ترجمان کے مطابق کینجھر لیک ریزورٹ، سمبارا اِن ہوٹل لاڑکانہ، لال شہباز ہوٹل سیہون، ماروی ریسٹ ہاؤس، روپلو کولہی ریزورٹ اور رنی کوٹ ریزورٹ سمیت تمام سیاحتی سہولیات کی آمدن اور اخراجات کا ریکارڈ مکمل طور پر شفاف اور واضح ہے۔






