تازہ ترین
ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخواپنجاب اسمبلی میں سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کیخلاف تحریک التوا لانے کا فیصلہوزیر اعظم کی نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات، معاشی امور پر تبادلہ خیالٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیوسعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی ملیشیاء کے 4 میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیاخیبرپختونخوا میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کا نیا انتظامی ڈھانچہ منظورسندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس میں خسارے کی سختی سے تردیدبجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرطہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخواپنجاب اسمبلی میں سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کیخلاف تحریک التوا لانے کا فیصلہوزیر اعظم کی نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات، معاشی امور پر تبادلہ خیالٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیوسعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی ملیشیاء کے 4 میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیاخیبرپختونخوا میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کا نیا انتظامی ڈھانچہ منظورسندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس میں خسارے کی سختی سے تردیدبجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرط
دنیا

ٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیو

ٹرمپ

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی خطرات کو ٹالنے کے بجائے مقابلے کا انتخاب کیا، صدر ٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا تھا۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے فلوریڈا میں کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی سکیورٹی کو برقرار رکھنا اور امریکیوں کے طرزِ زندگی کی حفاظت کرنا صدارتی ادارے کی سب سے اہم ذمہ داری ہے، چاہے اس مقصد کے لیے مشکل اور سخت فیصلے کرنے پڑیں اور اس کے بدلے بھاری سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے بحران کو آگے ملتوی کرنے اور آنے والی انتظامیہ پر ڈالنے کی روایتی پالیسی پر عمل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، بلکہ انہوں نے ایرانی دھمکیوں سے گریز کرنے کے بجائے ان کا براہِ راست سامنا کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے اپنے مؤقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ایسی قوتیں موجود ہیں، جو امریکی ریاست، ہماری اقدار اور ہمارے طرزِ زندگی کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا تھا، جبکہ ان کے لیے بھی یہ نہایت آسان راستہ تھا کہ وہ سابقہ صدور کی طرح ایرانی معاملے کو نظر انداز کر دیتے، لیکن انہوں نے شجاعت کے ساتھ اس دھمکی کا سامنا کیا کیونکہ ایران کا مقصد نہ صرف ہمارے ملک کو نقصان پہنچانا ہے بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔