تازہ ترین
ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخواپنجاب اسمبلی میں سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کیخلاف تحریک التوا لانے کا فیصلہوزیر اعظم کی نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات، معاشی امور پر تبادلہ خیالٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیوسعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی ملیشیاء کے 4 میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیاخیبرپختونخوا میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کا نیا انتظامی ڈھانچہ منظورسندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس میں خسارے کی سختی سے تردیدبجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرطہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخواپنجاب اسمبلی میں سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کیخلاف تحریک التوا لانے کا فیصلہوزیر اعظم کی نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات، معاشی امور پر تبادلہ خیالٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیوسعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی ملیشیاء کے 4 میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیاخیبرپختونخوا میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کا نیا انتظامی ڈھانچہ منظورسندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس میں خسارے کی سختی سے تردیدبجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرط
کاروبار

بجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرط

بجلی اور گیس

حکومت نے بجلی اور گیس پر سبسڈی کے لیے نیا نظام تیار کر لیا ہے، تاہم آئی ایم اف کی جانب سے اس کے نفاذ کی تاریخوں اور حکومت کی تجاویز میں اختلاف سامنے آیا ہے۔

وفاقی حکومت نے بجلی اور گیس کے صارفین کو سبسڈی دینے کے لیے ایک نیا طریقہ کار اور اکنامک سوشل رجسٹری تیار کر لی ہے۔ یہ نیا نظام پاور ڈویژن اور وزارت پیٹرولیم کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔

سبسڈی کے اس نئے طریقہ کار پر عملدرآمد کا حتمی فیصلہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی کرے گی، جبکہ نئے سبسڈی نظام کو مکمل طور پر نافذ کرنے سے قبل اس کا ایک ٹیسٹ رن بھی کیا جائے گا۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے حکومت کے سامنے شرط رکھی ہے کہ بجلی صارفین کے لیے نیا سبسڈی نظام ایک جنوری 2027 سے جبکہ گیس صارفین کے لیے فروری 2027 سے نافذ کیا جائے۔ تاہم وفاقی حکومت موجودہ سبسڈی کے طریقہ کار کو 30 جون 2027 تک برقرار رکھنے کی خواہش مند ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر صارفین کو ریلیف کی فراہمی میں مزید 6 ماہ کی توسیع کا معاملہ آئی ایم ایف کے سامنے اٹھایا جائے گا۔

حکومت خاص طور پر 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے غریب اور متوسط صارفین کو سبسڈی میں 6 ماہ کی توسیع دلوانے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔