پنجاب میں سی سی ڈی کے مبینہ پولیس مقابلوں اور ہلاکتوں کے خلاف اپوزیشن نے عدالتی کمیشن کی تشکیل کے لیے پنجاب اسمبلی میں تحریک التوا جمع کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی جانب سے کیے جانے والے پولیس مقابلوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی قانونی حیثیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اپوزیشن نے پنجاب اسمبلی میں ایک جامع تحریک التوا جمع کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ تحریک اپوزیشن رکن پنجاب اسمبلی احمر بھٹی اپنے 15 دیگر ارکان کے ہمراہ مشترکہ طور پر جمع کروائیں گے۔ تحریک کے متن میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ اور تحقیقاتی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی گئی ہے کہ سال 2025 کے دوران سی سی ڈی کی کارروائیوں میں 924 افراد ہلاک ہوئے، جس سے طاقت کے بے جا استعمال اور آئینی و قانونی تقاضوں پر شدید خدشات جنم لیتے ہیں۔
تحریک التوا میں واضح کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 9، 10، 10-اے اور 14 کے تحت شہریوں کو بنیادی حقِ زندگی، حراست کے دوران تحفظ، منصفانہ سماعت اور انسانی وقار کی ضمانت حاصل ہے۔
کسی بھی شخص پر سنگین الزامات کے باوجود سزا کا اختیار محض عدالتوں کے پاس ہے اور پولیس کے لیے قانون کے مطابق عمل درآمد لازمی ہے۔
اس لیے اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں ایک ایسا بااختیار عدالتی کمیشن بنایا جائے، جس میں کسی دوسرے صوبے کے ریٹائرڈ آئی جی، ہائی کورٹ کے سینئر نمائندے اور انسانی حقوق کے ماہر شامل ہوں تاکہ ان تمام ہلاکتوں کی شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔






