تازہ ترین
ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخواپنجاب اسمبلی میں سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کیخلاف تحریک التوا لانے کا فیصلہوزیر اعظم کی نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات، معاشی امور پر تبادلہ خیالٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیوسعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی ملیشیاء کے 4 میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیاخیبرپختونخوا میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کا نیا انتظامی ڈھانچہ منظورسندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس میں خسارے کی سختی سے تردیدبجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرطہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخواپنجاب اسمبلی میں سی سی ڈی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں کیخلاف تحریک التوا لانے کا فیصلہوزیر اعظم کی نواز شریف سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات، معاشی امور پر تبادلہ خیالٹرمپ کی قسمت میں مشکل فیصلے لینا لکھا ہے، چاہے اس کی سیاسی قیمت ہی کیوں نہ چکانی پڑے، مارکو روبیوسعودی دارالحکومت ریاض کی جانب داغے گئے حوثی ملیشیاء کے 4 میزائلوں کو فضا میں تباہ کردیا گیاخیبرپختونخوا میں ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ کا نیا انتظامی ڈھانچہ منظورسندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ریزورٹس میں خسارے کی سختی سے تردیدبجلی اور گیس سبسڈی کا نیا نظام تیار، آئی ایم ایف کی 2027 سے نفاذ کی شرط
پاکستان

ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، گورنر خیبر پختونخوا

ریاست کو نہ

گورنر خیبر پختونخوا نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے، آئین اور ریاست کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

پشاور میں اعلیٰ حکام کے ہمراہ اہم سیکیورٹی بریفنگ دیتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سیکریٹری داخلہ نے صوبے کی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف آئندہ کے لائحہ عمل کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کا قیام سب سے پہلی ترجیح ہے اور صوبے کی سیکیورٹی پالیسی اب صرف اسلام آباد سے آئے گی، جلال آباد، قندھار یا کابل سے نہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف انڈیا کی سہولت کاری کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغان حکام کے جارحانہ بیانات یا ڈرون کی آمد پر ماضی میں دکھائی جانے والی خاموشی افسوسناک تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئین اور ریاست کو نہ ماننے اور ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے، بلکہ زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کارروائی ہوگی۔ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ناگزیر ہیں۔

بریفنگ میں سیکریٹری داخلہ نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ہزار سے زائد جوان شہید ہو چکے ہیں، فورسز کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے عناصر ملک دشمن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ڈی آئی خان، لکی مروت اور بنوں میں اینٹی ڈرون سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ مزید سخت کی جا رہی ہے۔

بریفنگ میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ سابقہ صوبائی حکومت افغان مہاجرین کی واپسی اور سیکیورٹی معاملات میں مکمل سپورٹ نہیں کر رہی تھی۔ 22 اضلاع کے لیے مختص 6.4 ارب میں سے صرف ایک ارب جاری کیے گئے تھے۔

گورنر نے اعلان کیا کہ پولیس کو کلاشنکوف کے سہارے چھوڑنے کے بجائے جدید ترین اسلحہ، ایمونیشن، اور تنخواہوں و شہداء پیکج میں بہتری فراہم کی جائے گی تاکہ امن و امان قائم کر کے عوام کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔