تازہ ترین
براؤن بریڈ واقعی وائٹ بریڈ سے بہتر ہے؟ خریدنے اور کھانے سے پہلے یہ حقیقت جان لیںروزانہ ناریل کا پانی پینے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ فوائد جان کر حیران رہ جائیں گےامریکی عوام نے ایران جنگ کو مسترد کر دیا، ایرانی اسپیکر باقر قالیبافامریکی عوام نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا، باراک اوباماایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات کی شکست میں کردار ادا کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعترافامریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیاجے یو آئی رہنماء اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں پر نیب نے طلب کرلیاحکومت کا مستحق خاندانوں کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کا فیصلہبراؤن بریڈ واقعی وائٹ بریڈ سے بہتر ہے؟ خریدنے اور کھانے سے پہلے یہ حقیقت جان لیںروزانہ ناریل کا پانی پینے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں؟ فوائد جان کر حیران رہ جائیں گےامریکی عوام نے ایران جنگ کو مسترد کر دیا، ایرانی اسپیکر باقر قالیبافامریکی عوام نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا، باراک اوباماایران جنگ نے وسط مدتی انتخابات کی شکست میں کردار ادا کیا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعترافامریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیاجے یو آئی رہنماء اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں پر نیب نے طلب کرلیاحکومت کا مستحق خاندانوں کو ایل پی جی پر ریلیف دینے کا فیصلہ
سائنس و ٹیکنالوجی

پاس ورڈز محفوظ رکھنے والی کمپنی نے خود خطرے کی گھنٹی بجادی، صارفین کو کیا ہدایت کی؟

پاس ورڈ مینیجر ایپلی کیشن ایم سیکیور (mSecure) نے اپنے صارفین کو ممکنہ سائبر سیکیورٹی خطرے سے خبردار کردیا ہے۔

 کمپنی نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس اور محفوظ معلومات کی حفاظت کے لیے فوری طور پر پاس ورڈ تبدیل کریں۔ اس کے علاوہ ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن دوبارہ ترتیب دینے اور ضرورت پڑنے پر پہلے سے بنائی گئی پاس کیز ختم کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

امریکی سافٹ ویئر کمپنی ایم سیون سافٹ ویئر نے 3 نومبر کو صارفین کو ای میل کے ذریعے اس معاملے سے آگاہ کیا۔ کمپنی کے مطابق اسے اپنی پاس ورڈ مینجمنٹ ایپلی کیشن سے منسلک کچھ مشکوک سرگرمیوں کا پتا چلا ہے۔ اس اطلاع کے بعد کمپنی نے فوری طور پر تحقیقات شروع کردیں اور سیکیورٹی کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے۔

کمپنی نے بتایا کہ معاملے کی جانچ کے لیے بیرونی سائبر سیکیورٹی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ ان ماہرین کی مدد سے مشکوک سرگرمی کی نوعیت اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

تاہم، ایم سیکیور نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ مشکوک سرگرمی اصل میں کس نوعیت کی تھی۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اور آیا کسی غیر متعلقہ شخص یا ہیکر کو صارفین کے اکاؤنٹس تک رسائی ملی یا نہیں۔ اسی طرح محفوظ کیے گئے پاس ورڈز اور دوسری ذاتی معلومات کے متاثر ہونے کی بھی تصدیق نہیں کی گئی۔

اس صورتحال کے پیش نظر کمپنی نے صارفین کو احتیاطی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ وہ ایم سیکیور میں محفوظ اپنے تمام اہم اکاؤنٹس کے پاس ورڈ تبدیل کریں۔ خاص طور پر ای میل، بینکنگ اور دیگر حساس اکاؤنٹس کے پاس ورڈز پر توجہ دینا ضروری ہے۔ ہر اکاؤنٹ کے لیے الگ اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنا بھی بہتر ہے۔

کمپنی نے ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن (2FA) کو بھی دوبارہ ترتیب دینے یا نئے سرے سے رجسٹر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس حفاظتی نظام کے ذریعے پاس ورڈ کے علاوہ شناخت کی ایک اضافی تصدیق بھی ضروری ہوتی ہے۔ اس سے کسی دوسرے شخص کے لیے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس کے علاوہ صارفین کو اپنی موجودہ پاس کیز کا جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق انہیں ختم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ پاس کیز لاگ اِن کرنے کا ایک جدید طریقہ ہیں، جن میں روایتی پاس ورڈ کے بجائے دوسری قسم کی تصدیق استعمال ہوتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی کے اس معاملے میں فی الحال صارفین کی معلومات چوری ہونے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ تاہم کمپنی کی جانب سے احتیاطی اقدامات کی ہدایت کے بعد صارفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی سیکیورٹی مضبوط کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی پر نظر رکھیں۔