پاکستان میں موبائل سمز استعمال کرنے والے شہریوں کے لیے اہم وضاحت سامنے آگئی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق ایک شناختی کارڈ پر زیادہ سے زیادہ پانچ موبائل سمز رجسٹرڈ کروائی جاسکتی ہیں۔ اس حد کے بعد اسی شناختی کارڈ پر چھٹی سم حاصل نہیں کی جاسکتی۔
پی ٹی اے کے جاری کردہ مؤقف کے مطابق یہ پابندی ملک میں موبائل کنکشنز کی رجسٹریشن کے لیے مقررہ ضابطوں کا حصہ ہے۔ اس کا اطلاق ہر شہری کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ یعنی سی این آئی سی پر ہوتا ہے۔ شہری اپنے شناختی کارڈ کے ذریعے مختلف موبائل کمپنیوں کی سمز حاصل کرسکتے ہیں، تاہم تمام کمپنیوں کی رجسٹرڈ سمز کی مجموعی تعداد پانچ سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
اس ضابطے کا مقصد موبائل سمز کی رجسٹریشن اور ان کے استعمال کو باقاعدہ نظام کے تحت رکھنا ہے۔ اس کے ذریعے ہر موبائل کنکشن کو ایک درست شناختی کارڈ کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔ اس طرح سمز کی تعداد پر نظر رکھنا اور ان کی رجسٹریشن کی تصدیق کرنا آسان ہوتا ہے۔
پی ٹی اے کی وضاحت کے مطابق اگر کسی شہری کے شناختی کارڈ پر پہلے ہی پانچ سمز رجسٹرڈ ہیں تو وہ اسی شناختی کارڈ پر نئی سم حاصل نہیں کرسکے گا۔ مزید سم لینے کے خواہش مند افراد کو پہلے سے موجود کسی ایک کنکشن کو بند کروانا یا متعلقہ طریقہ کار کے مطابق کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کروانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی نئی سم کی رجسٹریشن ممکن ہوسکے گی۔
یہ پابندی صرف ایک موبائل کمپنی تک محدود نہیں ہے۔ یعنی اگر کسی شہری نے مختلف موبائل نیٹ ورکس کی سمز حاصل کر رکھی ہیں تو ان سب کو ملا کر پانچ کی حد پوری ہوگی۔ مثال کے طور پر اگر کسی شناختی کارڈ پر ایک کمپنی کی دو، دوسری کمپنی کی دو اور تیسری کمپنی کی ایک سم رجسٹرڈ ہے تو مزید کوئی سم اسی شناختی کارڈ پر جاری نہیں کی جاسکے گی۔
شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی تعداد سے آگاہ رہیں۔ اگر کسی کے نام پر ایسی سم موجود ہے جو وہ استعمال نہیں کر رہا تو نئی سم لینے سے پہلے اس کنکشن کو بند یا منتقل کروانے کے متعلقہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔
پی ٹی اے کے اس ضابطے کا مقصد موبائل سمز کی رجسٹریشن کو شناختی کارڈ کی مقررہ حد کے اندر رکھنا ہے۔ اس لیے نئی سم خریدنے سے پہلے شہریوں کو اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد ضرور معلوم کرلینی چاہیے تاکہ انہیں غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔






