واشنگٹن (جی ٹی وی نیوز اردو) — 5 نومبر 2026: امریکی سیاست میں ایک ایسی تبدیلی سامنے آرہی ہے جس کا تصور ایک دہائی قبل مشکل تھا۔ جس واشنگٹن میں اسرائیل کی حمایت طویل عرصے تک دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے کی علامت سمجھی جاتی تھی، وہاں اب اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرنے والے امیدوار انتخابات جیت رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں، فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں اور ایران کے خلاف جنگ نے امریکی عوام کے ایک بڑے حصے کو اسرائیل کے ساتھ اپنے ملک کے تعلقات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔
2026 کے وسط مدتی انتخابات نے اس تبدیلی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
کبھی اسرائیل کی مخالفت سیاسی خطرہ تھی، اب صورتحال بدل رہی ہے
امریکا میں کئی دہائیوں تک اسرائیل کی سلامتی اور فوجی امداد کی حمایت ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہی۔
اسرائیل نواز تنظیمیں انتخابی مہم میں مالی معاونت، سیاسی روابط اور ووٹروں کو متحرک کرنے کے ذریعے اثرورسوخ رکھتی رہی ہیں۔
اس ماحول میں اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید کرنے والے امیدواروں کو انتخابی دباؤ اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
تاہم یہ کہنا تاریخی طور پر درست نہیں کہ دس سال پہلے امریکا میں کوئی اسرائیل کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اس وقت بھی برنی سینڈرز سمیت متعدد سیاست دان اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے۔
اصل تبدیلی یہ ہے کہ اب ایسی تنقید امریکی سیاست کے مرکزی دھارے میں زیادہ نمایاں ہوچکی ہے اور بعض حلقوں میں اسے انتخابی حمایت بھی مل رہی ہے۔
اسرائیل نواز لابی کے کروڑوں ڈالر، پھر بھی اہم انتخابی شکستیں
2026 کے انتخابات میں اسرائیل نواز امریکی تنظیم اے آئی پی اے سی کی انتخابی سرگرمیاں شدید بحث کا موضوع رہیں۔
مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدوار عبدال السید نے اسرائیل کی غزہ پالیسیوں اور امریکی فوجی امداد پر کھل کر تنقید کی۔
ان کی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل نواز سیاسی گروہوں نے ان کے مخالف امیدواروں کی حمایت میں بھاری رقوم خرچ کیں۔
اس کے باوجود عبدال السید نے پہلے ڈیموکریٹک پرائمری میں کامیابی حاصل کی اور پھر نومبر کے انتخابات میں امریکی سینیٹ کی نشست جیتنے کا اعلان کیا۔
اس کامیابی کو فلسطینی حقوق کے حامی حلقوں نے امریکی انتخابی سیاست میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا۔
اسی طرح دیگر حلقوں میں بھی ایسے امیدوار کامیاب ہوئے جنہوں نے اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں، غزہ جنگ یا امریکی فوجی امداد پر تنقید کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا۔
تاہم ان امیدواروں کی کامیابی کو صرف اسرائیل کے معاملے سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ مہنگائی، مقامی مسائل اور جماعتی وابستگی بھی انتخابی فیصلوں پر اثرانداز ہوئے۔
اسرائیل نواز لابی نے انتخابی حکمت عملی کیوں بدلی؟
اکتوبر 2026 میں اے آئی پی اے سی نے اعلان کیا کہ وہ امیدواروں کی براہِ راست توثیق اور انہیں براہِ راست چندہ دینے کا طریقہ تبدیل کررہی ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اسرائیل نواز تنظیموں کی کھلی حمایت بعض انتخابی مقابلوں میں تنازع بن چکی تھی۔
تنظیم کے ناقدین نے اسے اس بات کا اشارہ قرار دیا کہ اسرائیل نواز لابی کا سیاسی اثرورسوخ پہلے جیسا نہیں رہا۔
تاہم اے آئی پی اے سی نے اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں کیں اور متعلقہ سیاسی اخراجاتی تنظیموں کے ذریعے انتخابی عمل میں کردار برقرار رکھا۔
اس لیے اسے اسرائیل نواز لابی کے مکمل خاتمے کے بجائے اس کی انتخابی حکمت عملی میں اہم تبدیلی سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
امریکی عوام کی ہمدردیاں بدل گئیں، گیلپ سروے کا تاریخی انکشاف
فروری 2026 میں امریکی ادارے گیلپ کے سروے نے امریکا میں اسرائیل اور فلسطین کے بارے میں عوامی رائے کی ایک بڑی تبدیلی ظاہر کی۔
سروے کے مطابق 41 فیصد امریکیوں نے فلسطینیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ 36 فیصد نے اسرائیلیوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ظاہر کی۔
2023 میں صورتحال اس کے برعکس تھی، جب 54 فیصد امریکی اسرائیلیوں اور 31 فیصد فلسطینیوں سے زیادہ ہمدردی رکھتے تھے۔
اگرچہ 2026 کے دونوں تناسب میں پانچ فیصد پوائنٹس کا فرق شماریاتی طور پر فیصلہ کن نہیں تھا، لیکن یہ طویل مدتی رجحان میں نمایاں تبدیلی ضرور تھی۔
گیلپ کے مطابق 2001 سے 2025 تک اسرائیلیوں کو امریکی عوام کی ہمدردیوں میں مسلسل برتری حاصل رہی تھی۔
56 فیصد امریکی اسرائیل کی فوجی امداد کم یا ختم کرنا چاہتے ہیں
اکتوبر 2026 میں شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کے سروے میں 56 فیصد امریکیوں نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد کم کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے کی حمایت کی۔
ان میں 21 فیصد امداد کم کرنے اور 35 فیصد اسے ختم کرنے کے حامی تھے۔
2014 میں یہ مجموعی تناسب 37 فیصد تھا۔
سیاسی جماعتوں کے اعتبار سے بھی نمایاں فرق سامنے آیا۔
72 فیصد ڈیموکریٹس اور 64 فیصد آزاد ووٹر اسرائیل کی فوجی امداد کم یا بند کرنے کے حامی تھے۔
اس کے برعکس 68 فیصد ری پبلکن ووٹر امداد برقرار رکھنے یا بڑھانے کے حق میں تھے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل کے معاملے پر امریکی سیاسی جماعتوں اور ووٹروں کے درمیان اختلاف بڑھ رہا ہے۔
نوجوان امریکی اسرائیل سے کیوں دور ہورہے ہیں؟
امریکی عوام کی رائے میں تبدیلی کا ایک اہم پہلو نوجوان نسل ہے۔
غزہ میں جنگ کی تصاویر، شہری ہلاکتوں کی رپورٹس، انسانی حقوق سے متعلق بحث اور جامعات میں ہونے والے مظاہروں نے اسرائیلی پالیسیوں کے بارے میں نئی بحث پیدا کی۔
سوشل میڈیا نے بھی فلسطینیوں کے حالات کو امریکی نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام نوجوان امریکی اسرائیل کے مخالف ہیں، بلکہ یہ کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھانا اب نوجوان ووٹروں کے ایک نمایاں حصے میں زیادہ عام ہوگیا ہے۔
کیا غزہ نے امریکی سیاست بدل دی؟
غزہ جنگ امریکی رائے عامہ میں تبدیلی کا ایک اہم سبب رہی ہے۔
اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور انسانی بحران کی خبروں نے امریکا میں احتجاجی تحریکوں کو تقویت دی۔
فلسطینی حقوق کے حامی گروہوں نے امریکی حکومت سے اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی روکنے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب اسرائیل کے حامی حلقے اسرائیلی شہریوں کی سلامتی، حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اسرائیل کے دفاع کے حق کو بنیادی دلائل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اسی لیے امریکی بحث صرف اسرائیل کی حمایت یا مخالفت تک محدود نہیں رہی، بلکہ فوجی امداد، انسانی حقوق، جنگ بندی اور خارجہ پالیسی کے سوالات بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔
اسرائیل کی حمایت، کیا اب انتخابی بوجھ بنتی جارہی ہے؟
2026 کے وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ سوال نمایاں ہوگیا ہے کہ کیا اسرائیل کی غیرمشروط حمایت اب بعض امیدواروں کے لیے انتخابی نقصان کا سبب بن سکتی ہے؟
برطانوی اخبار دی گارڈین کے تجزیے کے مطابق اسرائیل کے ساتھ امریکی تعلقات بعض سیاسی حلقوں میں انتخابی ذمہ داری کے بجائے سیاسی بوجھ بنتے جارہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی اسرائیل کو امریکی فوجی امداد اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد جیسے معاملات کی زیادہ سخت نگرانی کا راستہ کھول سکتی ہے۔
تاہم امریکی صدر کے ویٹو کا اختیار اور دونوں جماعتوں میں اسرائیل کے حامی سیاست دانوں کی موجودگی بڑی پالیسی تبدیلیوں کو محدود کرسکتی ہے۔
کیا اسرائیل اب واشنگٹن میں پہلے جیسا طاقتور نہیں رہا؟
اسرائیل کو امریکی سیاست، دفاعی اداروں اور کانگریس میں اب بھی نمایاں حمایت حاصل ہے۔
اسرائیل نواز سیاسی تنظیمیں بھی بدستور سرگرم ہیں۔
لیکن فرق یہ ہے کہ اب اس حمایت کو پہلے کی طرح ہر سیاسی حلقے میں غیرمتنازع نہیں سمجھا جاسکتا۔
امریکی انتخابات نے ظاہر کیا ہے کہ بعض حلقوں میں فلسطینی حقوق کی حمایت اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید امیدواروں کے لیے سیاسی نقصان کے بجائے حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
ایک دہائی پہلے اسرائیل کی حمایت واشنگٹن کی سیاسی روایت کا مضبوط حصہ تھی۔ آج یہ روایت مکمل طور پر ختم تو نہیں ہوئی، لیکن اسے پہلے سے کہیں زیادہ عوامی اور انتخابی سوالات کا سامنا ہے۔
2026 کے انتخابات کا اہم پیغام یہی ہے کہ امریکی سیاست میں اسرائیل کے بارے میں پرانا اتفاقِ رائے کمزور پڑ رہا ہے، اور فلسطینی حقوق کی حمایت اب بعض انتخابی حلقوں میں ایک مؤثر سیاسی مؤقف بن چکی ہے۔
یہ تبدیلی مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی پر کتنی اثرانداز ہوگی، اس کا انحصار نئی کانگریس کی قانون سازی، صدر کے فیصلوں اور امریکی ووٹروں کے بدلتے رجحانات پر ہوگا





