تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
کاروبار

فیول سبسڈی اسکیم کب تک جاری رہے گی؟ وزیراعظم کا بڑا اعلان

وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے جاری فیول سبسڈی پروگرام دسمبر 2026 کے آخر تک جاری رہے گا۔

یہ اعلان وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ملکی معیشت، عوامی ریلیف، توانائی کی فراہمی، امن و امان اور خطے کی سفارتی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے کابینہ کو حکومتی اقدامات اور آئندہ حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا۔

شہباز شریف نے بتایا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں پیٹرول 15 روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کا امکان تھا۔ تاہم حکومت نے ریفائنریز سے ونڈ فال منافع حاصل کرکے اس اضافی بوجھ کو عوام پر منتقل ہونے سے روک دیا۔ حکومت عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ فیول سبسڈی پروگرام دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔ سبسڈی کی ادائیگی میں کسی قسم کی بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ایسے پیٹرول پمپس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی جو اس پروگرام میں غیر قانونی طریقے اختیار کریں گے۔ خلاف ورزی کرنے والے پمپس بند کرنے کے ساتھ ان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جاسکتے ہیں۔

ایل پی جی کے شعبے سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں اس کاروبار سے محدود عناصر بھاری منافع حاصل کرتے رہے ہیں۔ اب حکومت نے اس شعبے میں شفافیت اور مقابلے کو فروغ دینے کے لیے نیا نظام ترتیب دیا ہے۔ ایل پی جی کی درآمد کے لیے مسابقتی ماحول پیدا کیا جائے گا۔ جبکہ مقامی ایل پی جی سے حاصل ہونے والے منافع کو عوام کو سبسڈی دینے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔

شہباز شریف نے سردیوں میں گیس کی فراہمی کو بھی اہم چیلنج قرار دیا۔ بحری راستوں پر مشکلات کے باعث ایل این جی کی درآمد اور سپلائی کے معاملات پر مسلسل اجلاس کیے جا رہے ہیں۔ حکومت ایل پی جی، ایل این جی اور پیٹرول کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے صوبے کے عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ عزم ظاہر کیا کہ ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی اور خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان سہ فریقی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے پاکستانی وفود اور فیلڈ مارشل نے تہران کے اہم دورے کیے ہیں۔ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔