امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے مزید بڑھنے کے خطرات کم ہونے کی امید پر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے دن بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے روز بھی گراوٹ کا شکار رہیں، کیونکہ سرمایہ کار یہ امید کر رہے ہیں کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کی ناکامی سے ایران پر جاری جنگ میں مزید اضافے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودے 97 سینٹ یعنی 1.03 فیصد گر کر 93.65 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.14 ڈالر یعنی 1.29 فیصد کمی کے بعد 86.98 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
اس سے پچھلے کاروباری دن میں دونوں قسم کے خام تیل کی قیمتیں 8 فیصد سے زیادہ گر کر اگست کے آخر کے بعد اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی تھیں۔
خلیجی حکومتی حلقوں کے قریب ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد اب صدارتی اختیارات پر حدود قائم ہوں گی، جس سے صدر ٹرمپ کے پاس تہران کے ساتھ ڈیل کرنے کی بڑی وجہ موجود ہے اور ایران پر اب کسی مکمل پیمانے پر بڑے حملے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔
تاہم معاشی ماہرین اور تجارتی تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ اس تنازع کے حل سے مشرق وسطیٰ میں تیل کی سپلائی دوبارہ بحال ہو سکتی ہے، لیکن صورتحال اب بھی مکمل طور پر غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔






