تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
تجزیہ و بلاگز

انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کے ایران، اسرائیل اور یوکرین پر ہونے والے گہرے اثرات

انتخابات

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پارٹی کو ملنے والی بڑی ناکامی کا اثر ایران، اسرائیل اور یوکرین کے بارے میں واشنگٹن کی آئندہ خارجہ پالیسی اور جنگی حکمت عملی پر گہرا پڑے گا۔

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج صرف امریکی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ان کے اثرات عالمی سرحدوں سے بہت آگے تک محسوس کیے جائیں گے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 2 سال تک امریکی خارجہ پالیسی کو بدل کر رکھ دیا تھا، جس سے ان کے اتحادی اور مخالفین دونوں ہی شدید پریشان تھے۔ اب تمام ممالک یہ دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ کے اندر انتخابی ناکامی ٹرمپ کے بیرونِ ملک فیصلوں کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔

ایران، اسرائیل اور یوکرین کے لیے ان انتخابات کا نتیجہ محض کانگریس کے کنٹرول سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ طے ہوگا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ ڈیل کرتے ہیں یا مزید جنگ، اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کس حد تک کم ہوتی ہے، اور یوکرین پر روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کیا شرائط ماننے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

اگرچہ ڈیموکریٹس کے پاس اب ٹرمپ کو چیلنج کرنے کے نئے قانونی راستے موجود ہیں، لیکن ٹرمپ کے پاس اب بھی خارجہ پالیسی کے بہت سے اختیارات ہیں، جس سے دنیا بھر کے رہنما یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا یہ شکست ٹرمپ کو سمجھوتے پر مجبور کرے گی یا وہ مزید ضد کا مظاہرہ کریں گے۔

ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے الیکشن پر اثر ڈالا، جبکہ نائب صدر وینس نے صاف کہا کہ ہماری شکست کی وجہ جنگ ہی تھی۔

ایران اس انتخابی نتائج پر خوشی منا رہا ہے لیکن ساتھ ہی وہ امریکہ کے ممکنہ نئے حملوں یا نئی معاہدے کی کوششوں کے لیے بھی خود کو تیار کر رہا ہے۔ ایران نے اس شکست کو اپنی 8 ماہ کی اس حکمت عملی کی فتح قرار دیا ہے، جس میں اس نے امریکی ووٹرز کو جنگ کے خلاف کرنے کے لیے معاشی راستوں کو متاثر کیا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھا کہ اگر امریکی حکومت اپنے عوام کی مرضی کو مسترد کر کے بیرونی آقاؤں کی خدمت کرے گی، تو ہماری ناں ان کے لیے ایک خوفناک کابوس ثابت ہوگی۔

دوسری طرف، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے نتائج سے امریکی پالیسی بدلے گی وہ شدید غلط فہمی میں ہیں۔ ایران مزید جنگ اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے، کیونکہ ٹرمپ کے حملوں کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

تحلیلی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اب یا تو اپنی عزت بچانے کے لیے معاہدہ کریں گے یا میدان میں مزید طاقت دکھائیں گے، تاہم ایک عبوری ڈیل زیادہ ممکن دکھائی دیتی ہے۔

اسرائیل کے لیے ان انتخابات کے نتائج ایک بہت بڑا خطرہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ الیکشن کے دن ہی ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی ملٹری امداد بند کرنے کا اچانک اعلان پہلا بڑا جھٹکا تھا، جس کے بعد ڈیموکریٹس کی زبردست کامیابی نے تل ابیب میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

امریکہ میں اسرائیل کے لیے دونوں پارٹیوں کی حمایت پہلے ہی کم ہو رہی تھی۔ سابق اسرائیلی سفیر مائیکل اورن کے مطابق، امریکہ میں اسرائیل پر تنقید اب دونوں پارٹیوں کا مشترکہ نقطہ بن چکا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی امداد کا خاتمہ صرف شروعات ہے اور مستقبل میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور آئرن ڈوم جیسے دفاعی سسٹمز کی مشترکہ تیاری بھی روک سکتا ہے۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ میں امریکی ویٹو کا استعمال بھی ختم ہو سکتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک پرانے دور کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

یروشلم پوسٹ کے سابق ایڈیٹر یعقوب کتز نے بھی خبردار کیا ہے کہ ہتھیاروں کی فروخت کی بندش اور پابندیاں ابھی باقی ہیں۔ نیتن یاہو، جو اب بھی ایران پر حملوں کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، خود اپنے ملک میں اکثریت کھو چکے ہیں اور ان کی حکومت شدید مشکلات کا شکار ہے۔

یوکرین کے لیے نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی صورتحال تبدیل ہو چکی تھی۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی اور ٹرمپ کے تعلقات نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے تھے، کیونکہ ٹرمپ زیلینسکی کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے تھے اور روس کے ساتھ توانائی کے معاہدوں پر زور دے رہے تھے۔

یوکرین نے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ اسے ٹرمپ کے بعد کی دنیا کا انتظار کرنا ہے۔ نتائج کے بعد اگرچہ کیف نے خاموشی اختیار کی، لیکن وہاں کے حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ سے پیٹریاٹ سسٹمز کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

ٹرمپ کا کمزور ہونا یوکرین کے لیے ایک مثبت بات سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ انہوں نے یوکرین کو ہی روسی مطالبات نہ ماننے پر سزا دینا شروع کر دی تھی۔

تاہم، یوکرین کے لیے ایک بڑا خطرہ یہ ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ٹرمپ کا وقت ختم ہونے سے پہلے اگلے ایک سال میں یوکرین میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے مزید خونریز اور شدید ترین حملے کر سکتے ہیں۔