صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو جدید دور کے شاید سب سے زیادہ اسرائیل کے حامی صدر ہیں، نے انتخابات کے دن فاکس نیوز پر یہ اعلان کر کے سب کو حیران کر دیا کہ امریکہ اسرائیل کے لیے سالانہ تقریبا چار ارب ڈالر کی امداد بند کر دے گا۔ لیکن جیسا کہ ٹرمپ کے ساتھ اکثر ہوتا ہے، یہ اعلان تفصیلات سے عاری تھا۔
اس کے باوجود، ٹرمپ کا یہ اقدام اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات میں ایک اور دلچسپ موڑ ہے، جن کے ساتھ وہ ایران کی جنگ میں شراکت دار ہیں اور جس سے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کی امیدوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
یہ ایک ایسے نازک سیاسی لمحے میں سامنے آیا ہے، جب اسرائیل سیاسی ابتری کا شکار ہے کیونکہ پچھلے ہفتے کے انتخابات میں کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا اور نیتن یاہو کے مستقبل کے بارے میں بھی غیر یقینی صورتحال پائی جاتی ہے۔
امریکہ میں سیاسی ماحول کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرح سے، ٹرمپ ڈیموکریٹس کے اس نقطہ نظر کو تسلیم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اسرائیل کے لیے امداد امریکی سیاست میں اب ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ یہ واشنگٹن میں دیرینہ دو طرفہ پرو اسرائیل اتفاق رائے میں ایک غیر معمولی دراڑ کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ اعلان اسرائیل کے لیے ایک غیر یقینی نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے، نیتن یاہو واشنگٹن میں کئی صدور کے دوران ری پبلکنز کے ساتھ صف بند رہے ہیں، لیکن 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد غزہ میں نیتن یاہو کے ردعمل پر نہ صرف ترقی پسندوں بلکہ ٹرمپ کی حامی تحریک کے دائیں بازو کے کارکنوں کی طرف سے بھی زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان کہ ہم سال کے آخر تک اسرائیل کو مزید ادائیگی نہیں کریں گے، سابق صدر باراک اوباما کے دور میں 2016 میں طے پانے والے اس معاہدے سے متعلق ہے، جو 2028 کے آخر تک چلنا تھا۔
اس فنڈز کا بیشتر حصہ خصوصی طور پر امریکی مینوفیکچررز سے اسرائیلی مسلح افواج کے لیے ہتھیار اور سازوسامان خریدنے پر خرچ ہوتا ہے، اس لیے اس معاہدے کے امریکہ میں کاروبار اور روزگار پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اب اتنی طاقتور معیشت بن چکا ہے کہ اسے فوجی سازوسامان خریدنے کے لیے امریکی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔
دوسری طرف، امریکی عوام میں بھی یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ امریکہ کو غیر ملکی امداد پر اپنی دولت خرچ کرنے کے بجائے اپنے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
کوئن پیاک کے ایک سروے کے مطابق 48 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی ضرورت سے زیادہ حمایت کر رہا ہے۔






