تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
انٹرٹینمنٹ

اے آئی سے جعلی خاتون وکیل علشبہ نور کی ویڈیوز بنانے کا معاملہ، وکلا کا NCCIA سے رجوع؛ قانونی کارروائی کا مطالبہ

Exclusive
علشبہ نور اے آئی ویڈیوز

کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کردہ مبینہ خاتون وکیل علشبہ نور کی وائرل ویڈیوز اور وکلا کے مخصوص یونیفارم کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک مصنوعی کردار تخلیق کرکے اسے وکیل کے روپ میں پیش کیا گیا، جس سے نہ صرف خواتین وکلا کے وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ قانونی پیشے سے وابستہ افراد کی شناخت اور یونیفارم کا بھی تمسخر اڑایا جارہا ہے۔

درخواست گزار وکیل نے سائبر کرائم تحقیقاتی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وائرل ویڈیوز اور ان سے منسلک ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی مکمل تحقیقات کی جائیں، مواد تیار کرنے اور پھیلانے میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اے آئی کے ذریعے خاتون وکیل کا کردار تخلیق کرنے کا معاملہ

درخواست کے مطابق سوشل میڈیا پر علشبہ نور کے نام سے سامنے آنے والا کردار مبینہ طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کردار کو خاتون وکیل کے طور پر پیش کرتے ہوئے ایسی ویڈیوز شیئر کی گئیں جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگئیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی فرضی کردار کو حقیقی پیشہ ورانہ شناخت کے روپ میں پیش کرنا اور اس مقصد کے لیے وکلا کا مخصوص لباس استعمال کرنا قابلِ تشویش معاملہ ہے۔ ان کے مطابق وکیل کا یونیفارم محض ایک لباس نہیں بلکہ قانونی پیشے کی شناخت، وقار اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی علامت ہے۔

خواتین وکلا کے وقار اور پیشہ ورانہ شناخت پر سوالات

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کی ویڈیوز سے خواتین وکلا کی پیشہ ورانہ شناخت متاثر ہورہی ہے۔ وکیل برادری کا مخصوص یونیفارم ایک باوقار پیشے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے اس کے استعمال میں غیرسنجیدگی یا تضحیک آمیز انداز اختیار کرنا پوری قانونی برادری کے احترام سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق سوشل میڈیا پر جعلی ڈیجیٹل کردار کے ذریعے وکیل کا روپ اختیار کرکے ویڈیوز بنانا اور انہیں تفریح یا مقبولیت حاصل کرنے کے لیے پھیلانا وکلا برادری کے تشخص کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایسے رجحان کی روک تھام کے لیے متعلقہ ادارے مؤثر اقدامات کریں تاکہ پیشہ ورانہ یونیفارم اور اس سے وابستہ وقار کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

NCCIA سے جعلی اکاؤنٹس کے پیچھے اصل افراد کی شناخت کا مطالبہ

درخواست گزار وکیل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی سے مطالبہ کیا ہے کہ علشبہ نور کے نام سے سامنے آنے والے کردار اور اس کی ویڈیوز سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا تکنیکی جائزہ لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ ڈیجیٹل سرگرمیوں، اکاؤنٹس کے انتظام اور ویڈیوز کی تیاری و اشاعت میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر موجود فرضی نام یا کردار تک محدود رہنے کے بجائے اس کے پیچھے موجود اصل افراد اور ان کے کردار کا تعین کیا جائے۔ درخواست گزار نے زور دیا ہے کہ اگر تحقیقات میں قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

اے آئی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل شناخت کے غلط استعمال کا بڑھتا خدشہ

آرٹیفیشل انٹیلیجنس نے تصاویر، ویڈیوز اور ڈیجیٹل کردار تخلیق کرنے کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے فرضی چہرے، آوازیں اور کردار تیار کیے جاسکتے ہیں، جنہیں سوشل میڈیا پر حقیقی افراد یا پیشہ ورانہ شناخت کے طور پر بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

ایسے مواد کے استعمال سے متعلق اہم سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل تفریح اور تخلیقی اظہار کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور کسی پیشے، ادارے یا فرد کی شناخت اور وقار متاثر ہونے کا معاملہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ بالخصوص جب کسی مخصوص یونیفارم یا پیشہ ورانہ شناخت کو استعمال کیا جائے تو اس کے اثرات متعلقہ شعبے سے وابستہ افراد تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

علشبہ نور کی مبینہ اے آئی ویڈیوز کے خلاف NCCIA میں درخواست جمع ہونے کے بعد اب تحقیقات میں ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے پیچھے موجود افراد کی شناخت اور ویڈیوز کی تیاری کے طریقہ کار کا تعین اہم ہوگا۔ تاہم درخواست میں لگائے گئے مؤقف اور الزامات کی تصدیق متعلقہ ادارے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گی۔