اسلام آباد (جی ٹی وی نیوز اردو): وزارتِ صحت میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، مہنگے داموں ویکسین کی خریداری اور سرکاری اداروں کی جانب سے آڈٹ کے عمل میں رکاوٹوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارتِ صحت کے مختلف شعبوں میں خریداریوں، ادائیگیوں اور مالی معاملات پر سنگین اعتراضات سامنے آئے ہیں، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے احکامات کو نظرانداز کیے جانے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی کے مختلف کیسز میں 28.41 ملین روپے کے آڈٹ اعتراضات سامنے آئے، جبکہ مختلف خریداریوں کی مد میں 1,779 ملین روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
ویکسین کی خریداری میں قومی خزانے کو ایک ارب روپے سے زائد نقصان
آڈٹ رپورٹ کے مطابق فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (ایف ڈی آئی) کی جانب سے کابینہ کے فیصلے کے برعکس زیادہ قیمتوں پر ویکسین خریدنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹا ویلنٹ اور ٹی ڈی ویکسین کھلے ٹینڈر کے ذریعے مہنگے داموں خریدی گئیں، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق ویکسین کی خریداری کے طریقہ کار اور مقررہ قیمتوں سے متعلق کابینہ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس معاملے میں خریداری کے فیصلوں، قیمتوں کے تعین اور ذمہ دار افسران کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
نرم میں ایم آر آئی مشین کی خریداری پر بھی اعتراضات
آڈٹ رپورٹ میں اسلام آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن (نرم) کے مالی معاملات پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ادارے نے پورٹ قاسم پر ایم آر آئی مشین کی عدم کلیئرنس کے باعث سپلائر کو 15 ملین روپے سے زائد ڈیمریج اور ڈیٹینشن چارجز ادا کیے۔
اس کے علاوہ نرم کی جانب سے ٹینڈر دستاویزات میں شامل کیے بغیر 116 ملین روپے کی ایم آر آئی سافٹ ویئر مشین پیشگی خریدنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ کے مطابق اس خریداری کے طریقہ کار پر قواعد و ضوابط کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
نرسنگ کونسل کا آڈٹ سے انکار، کارروائی کی سفارش
رپورٹ میں پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کی جانب سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو اپنے مالی کھاتوں کا آڈٹ کروانے سے انکار کرنے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے کونسل کے متعلقہ افسران کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی سفارش کی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے احکامات نظرانداز کرنے کا معاملہ
وزارتِ صحت کے مالی معاملات میں آڈٹ اعتراضات کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں مختلف اداروں کی خریداریوں، ادائیگیوں اور مالی انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ویکسین کی خریداری میں ایک ارب روپے سے زائد نقصان، نرم میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کے مالی معاملات اور نرسنگ کونسل کی جانب سے آڈٹ سے انکار ایسے معاملات ہیں جن پر متعلقہ اداروں سے وضاحت اور ذمہ داری کا تعین ضروری ہے۔ آڈٹ اعتراضات کی حتمی حیثیت اور ذمہ داران کے تعین کے لیے متعلقہ فورمز پر کارروائی اہم ہوگی۔






