تازہ ترین
ایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئےایران جنگ جاری رکھنے پر امریکی حکومت میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، وزیر دفاع پر ٹرمپ کو غلط اندازہ دینے کا الزام!غزہ جنگ کے سائے میں نیتن یاہو کا اقتدار خطرے میں، دیرینہ اتحادی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا!متحدہ عرب امارات میں نئے ٹریفک قوانین کا اعلانفیول ریلیف پروگرام: وزیراعظم کا پیٹرول نہ دینے والے پمپس کے لائسنس منسوخ کرنے کا حکمالیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار کرانے کا حکمجوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس: عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی پر فردِ جرم کی کارروائی ملتویچین اور کویت کی جانب سے پاکستان کو 4.3 ارب ڈالر قرض رول اوور کی یقین دہانیالیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات تا حکمِ ثانی مؤخر کر دیئے
صحت

موسم سرد ہونے پر صبح اٹھنا زیادہ مشکل کیوں محسوس ہونے لگتا ہے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی

Exclusive
نیند

موسم سرما شروع ہوتے ہی بہت سے لوگوں کے لیے صبح بستر سے اٹھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ رات کو معمول کے مطابق سونے کے باوجود دن بھر سستی اور غنودگی محسوس ہوتی ہے۔ بعض افراد کو لگتا ہے کہ ان کی نیند پوری نہیں ہوئی۔ یہ کیفیت صرف چند لوگوں تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں بہت سے افراد سردیوں کے دوران اس کا سامنا کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق سرد موسم میں انسانی جسم کو معمول سے زیادہ نیند کی ضرورت محسوس ہوسکتی ہے۔ عام طور پر بالغ افراد کے لیے روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند مناسب سمجھی جاتی ہے۔ تاہم سردیوں میں نیند کے دورانیے اور معیار میں تبدیلی آسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کو اس موسم میں زیادہ دیر تک سونے کی خواہش ہوتی ہے۔

فروری 2023 میں جرمنی کے سینٹ ہیڈوگ ہاسپٹل میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی موسم اور نیند کے تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق موسم سرما میں لوگوں کی نیند دیگر موسموں کے مقابلے میں زیادہ گہری ہوسکتی ہے۔ اس دوران نیند کا اوسط دورانیہ بھی موسم گرما کے مقابلے میں تقریباً ایک گھنٹہ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ سردیوں میں گہری نیند کا دورانیہ تقریباً 30 منٹ تک بڑھ سکتا ہے۔ گہری نیند جسم کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس دوران دماغ اور جسم کو آرام ملتا ہے۔ یہ عمل یادداشت، توجہ، مزاج اور مدافعتی نظام کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

محققین کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ سردیوں میں نیند کی ضرورت بڑھنے کے باوجود زیادہ تر افراد اپنی روزمرہ مصروفیات کی وجہ سے سونے کا وقت نہیں بڑھا پاتے۔ وہ موسم گرما کی طرح ہی اپنے سونے اور جاگنے کا معمول برقرار رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں دن کے وقت تھکاوٹ اور غنودگی محسوس ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں موسم کے مطابق نیند کی عادات میں تبدیلی کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

روشنی اور نیند کا آپس میں تعلق

انسانی جسم میں ایک قدرتی گھڑی موجود ہوتی ہے جو سونے اور جاگنے کے وقت کو منظم کرتی ہے۔ یہ گھڑی سورج کی روشنی سے متاثر ہوتی ہے۔ دن کے وقت روشنی ملنے سے انسان زیادہ متحرک رہتا ہے، جبکہ سورج غروب ہونے کے بعد جسم آرام کی تیاری شروع کردیتا ہے۔

سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں طویل ہوجاتی ہیں۔ سورج کی روشنی کم ملنے سے جسم میں میلاٹونین نامی ہارمون کے اخراج کا وقت پہلے شروع ہوسکتا ہے۔ یہ ہارمون نیند کے نظام کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے شام کے وقت جلد نیند آنے اور صبح دیر تک سونے کی خواہش بڑھ سکتی ہے۔

ماہرین کی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موسم کے ساتھ نیند کی عادات بھی بدل سکتی ہیں۔ اس لیے سردیوں میں مناسب وقت پر سونا اور جسم کی نیند کی ضرورت پوری کرنا اہم ہے۔ اگر مناسب نیند کے باوجود مسلسل شدید سستی یا غنودگی محسوس ہو تو طبی مشورہ لینا بہتر ہے۔