وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی (پیوارا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے مالیاتی جدت اور جدید ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) میں ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکاری کے مستقبل پر منعقدہ مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان محض ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک بننے کے بجائے عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔
بلاک چین کے امکانات کرپٹو ٹریڈنگ سے وسیع
بلال بن ثاقب کے مطابق ڈیجیٹل اثاثے اور بلاک چین ٹیکنالوجی پاکستان کے مالیاتی نظام میں اہم تبدیلیاں لاسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاک چین کے امکانات بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ تک محدود نہیں، بلکہ یہ مالیاتی شمولیت اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالیاتی جدت کے فروغ کے لیے بینکوں اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔ مالیاتی استحکام برقرار رکھتے ہوئے جدت کے لیے سازگار ریگولیٹری ماحول تشکیل دینا بھی ناگزیر ہے۔
ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے کی کوشش
چیئرمین پیوارا نے کہا کہ پاکستان کا سالانہ تقریباً 41 ارب ڈالر کا ترسیلات زر کا نظام جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے زیادہ مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ترسیلات زر کی لاگت میں 2 سے 3 فیصد کمی سے ملکی معیشت میں ایک ارب ڈالر اضافی آسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر کے اخراجات کم کرنے کے لیے پیوارا اور اسٹیٹ بینک مشترکہ ورکنگ گروپ پر کام کر رہے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک سے پاکستان رقم بھیجنے کے حوالے سے پائلٹ منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے کی ضرورت
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ بینکوں کو مشترکہ مالیاتی انفراسٹرکچر، کسٹڈی سروسز اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کرنا ہوگا۔ پیوارا، اسٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی مالیاتی جدت کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی کے بجائے سکیورٹی پروٹوکول میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستان کا ڈیجیٹل مالیاتی انفراسٹرکچر محفوظ، مستحکم اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔
مکالمے میں لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی چیمہ اور اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ سمیت دیگر شخصیات بھی شریک تھیں۔






