قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں آسان ٹیکس اسکیم میں غیر رجسٹرڈ دکانداروں کے خلاف جرمانے اور سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال اور ٹیکس معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ممبر کمیٹی نفیسہ شاہ نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے بجٹ میں آسان ٹیکس اسکیم سے متعلق بریفنگ دی تھی، لیکن اس وقت پاکستان کے 3 بارڈرز سے تجارت مکمل بند ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ان اہم بارڈرز کے بند ہونے سے ملکی تجارت اور معیشت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
اجلاس کے دوران آسان ٹیکس اسکیم اور تاجروں کی رجسٹریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ حکومت نے دکانداروں کو واضح کیا تھا کہ پہلے سے ایک نارمل ٹیکس رجیم کا راستہ موجود تھا، لیکن تاجروں کی سہولت کے لیے ہم نے ایک اور آسان راستہ فراہم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے تاجر رہنماؤں کے ساتھ مل کر یہ اسکیم تیار کی تھی اور آسان ٹیکس اسکیم میں تاجروں کے تمام مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔
بلال کیانی کے مطابق اس اسکیم کے ذریعے کچھ دکانداروں نے رجسٹریشن کرا لی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں اور ایمانداری سے ٹیکس جمع کرائیں۔
وزیر مملکت برائے خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں ٹیکس نہ دینے کا ایک کلچر بن چکا ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ خوف بھی بیٹھ گیا ہے کہ رجسٹرڈ ہونے کے بعد ایف بی آر ان کے ساتھ پتا نہیں کیا سلوک کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت سخت قوانین کو نافذ العمل کرنے کے مرحلے کی طرف جا رہی ہے۔ بلال اظہر کیانی نے واضح اعلان کیا کہ جو دکاندار اس آسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹرڈ نہیں ہوئے ان پر اب بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے حکومت کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آپ کا خیال تھا کہ اس سکیم سے 80 فیصد دکاندار رجسٹرڈ ہو جائیں گے، لیکن اگر 20 فیصد تاجر بھی رجسٹرڈ نہیں ہوئے تو آپ دوبارہ صفر پر ہی کھڑے ہیں۔
نوید قمر نے پوچھا کہ دکانداروں کے خلاف انفورسمنٹ اور جرمانوں کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ جس پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال کیانی نے جواب دیا کہ انفورسمنٹ کا مکمل طریقہ کار اگلے چند دنوں کے اندر کمیٹی اور عوام کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔






