کراچی (جی ٹی وی نیوز اردو): پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی وصولی یقینی بنانے کے لیے وفاقی حکومت نے متعلقہ قوانین میں سخت ترامیم کا فیصلہ کرلیا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت پیٹرولیم لیوی ادا نہ کرنے پر 3 سال تک قید اور بھاری جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے، جبکہ خلاف ورزی کرنے والی ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کے لائسنس بھی معطل یا منسوخ کیے جاسکیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی ادائیگی کے طریقہ کار کو مزید سخت بنانے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس سے قبل لیوی کی وصولی کے قانونی نظام کو مؤثر بنانے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مجوزہ قانونی ترامیم کے تحت ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے لیوی کی بروقت ادائیگی کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے لائسنس کی بنیادی شرط بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ متعلقہ کمپنیوں کو اپنا کاروبار جاری رکھنے کے لیے مقررہ قواعد کے مطابق پیٹرولیم اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی جمع کرانا ہوگی۔ عدم ادائیگی یا قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں ان کے لائسنس معطل یا منسوخ کیے جاسکیں گے۔
ذرائع کے مطابق لیوی کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والی کمپنیوں پر بھاری سرچارج عائد کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔ مجوزہ طریقہ کار کے تحت تاخیر کی صورت میں کم از کم 12 فیصد سالانہ یا 6 ماہ کے کائبور (KIBOR) ریٹ کے ڈیڑھ گنا کے برابر سرچارج وصول کیا جاسکے گا۔ اس اقدام کا مقصد ادائیگیوں میں تاخیر کی حوصلہ شکنی اور سرکاری واجبات کی بروقت وصولی یقینی بنانا ہے۔
مجوزہ ترامیم میں آئل کمپنیوں کے لیے سالانہ آڈٹ شدہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا بھی لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ذریعے کمپنیوں کی جانب سے لیوی کی ادائیگی، واجبات اور مالی ریکارڈ کی جانچ پڑتال ممکن بنائی جاسکے گی، جبکہ متعلقہ اداروں کو ادائیگیوں کی نگرانی اور مالی شفافیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قوانین میں سختی کا بنیادی مقصد سرکاری محصولات کی وصولی یقینی بنانا، لیوی کی ادائیگی میں تاخیر روکنا اور پیٹرولیم سیکٹر میں مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے۔ تاہم قید، جرمانے، سرچارج اور لائسنس سے متعلق یہ اقدامات فی الحال مجوزہ ترامیم کا حصہ ہیں؛ ان کے حتمی نفاذ کے لیے قانونی منظوری اور متعلقہ مراحل مکمل ہونا ضروری ہیں۔






