لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز میں کام کرنے والے اہل ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل ورکرز کا قانونی درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جسٹس خالد اسحاق نے پنجاب حکومت کی جانب سے مستقل ورکرز کا درجہ دینے سے انکار کے احکامات کو غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے محمد بلال رضا سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک جیسے حالات میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ مختلف سلوک آئین کے آرٹیکل 25 کے منافی ہوسکتا ہے۔
مسلسل خدمات انجام دینے والے ملازمین حق دار
عدالتی فیصلے کے مطابق مستقل نوعیت کے کام پر مسلسل 9 ماہ سے زائد خدمات انجام دینے والے اہل ملازمین مستقل ورکرز کے قانونی حقوق حاصل کرنے کے حق دار ہیں۔ عدالت نے ڈیلی ویجز، ورک چارجڈ اور کنٹیجنٹ پیڈ ملازمین کی 26 آئینی درخواستیں منظور کرلیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ مستقل ورکرز کا قانونی درجہ حاصل کرنے کے لیے الگ نوٹیفکیشن جاری کرنا ضروری نہیں۔ ملازمین کو زبانی احکامات کے ذریعے ملازمت سے فارغ کرنا بھی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں، بلکہ تحریری حکم اور وجوہات بیان کرنا لازم ہے۔
2021 کی پالیسی کا اطلاق
عدالت نے قرار دیا کہ پنجاب حکومت کی 2021 کی پالیسی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوگی۔ خودمختار ادارے ہونے کی بنیاد پر اتھارٹیز اس پالیسی کے نفاذ سے انکار نہیں کرسکتیں۔
فیصلے کے مطابق ملازمین کی بار بار 89 روزہ تقرریاں مستقل نوعیت کے کام کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ ملازم کی قانونی حیثیت کا تعین تقرری کے عنوان کے بجائے کام کی نوعیت اور مدت سے ہوگا۔
ڈیٹا انٹری آپریٹرز، سینیٹری ورکرز اور دیگر اہل ملازمین اسٹینڈنگ آرڈرز 1968 کے تحت مستقل ورکرز کے حقوق اور قانونی تحفظات حاصل کرنے کے حق دار ہوں گے۔
سول سرونٹ کی حیثیت سے خودکار مستقلی نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ مستقل ورکرز کا قانونی درجہ ملنے کا مطلب سول سرونٹ کی حیثیت سے خودکار ریگولرائزیشن نہیں ہوگا۔ ملازمین کے واجبات اور تنخواہوں کا تعین متعلقہ حکام الگ سے کریں گے۔
عدالت نے واجبات طے کرنے سے قبل ملازمین کو سماعت کا مناسب موقع فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ معاوضوں کے تعین میں ’’کام نہیں تو اجرت نہیں‘‘ کے اصول کو مدنظر رکھا جاسکتا ہے۔






