سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی مدد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ جاری کیا ہے۔
وزارت کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کو رہائش فراہم کرنا، ملازمت دینا، ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا یا کسی بھی نوعیت کی معاونت کرنا سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جس پر ایک لاکھ سعودی ریال تک جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
رہائش اور روزگار فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ جو افراد اقامہ یا لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سہولت فراہم کرتے ہیں، وہ بھی قانونی کارروائی کی زد میں آسکتے ہیں۔
قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پناہ دینے، روزگار مہیا کرنے یا ان کی نقل و حرکت میں مدد کرنے پر متعلقہ افراد کو مقررہ سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
غیر ملکی شہریوں کو سزا کے بعد ملک بدر کیا جاسکتا ہے
وزارت داخلہ کے مطابق اگر اس جرم میں ملوث شخص غیر ملکی شہری ہو تو اسے قید یا دیگر سزا مکمل کرنے کے بعد سعودی عرب سے بے دخل بھی کیا جاسکتا ہے۔
اس اقدام کا مقصد اقامہ، لیبر اور سرحدی سکیورٹی قوانین کی پابندی یقینی بنانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرنا ہے۔
خلاف ورزیوں کی اطلاع دینے کے لیے ہیلپ لائن نمبرز
سعودی وزارت داخلہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اقامہ، لیبر یا سرحدی سکیورٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بروقت کارروائی کی جاسکے۔
وزارت کے مطابق مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں خلاف ورزیوں کی اطلاع 911 پر دی جاسکتی ہے، جبکہ سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں اطلاع دینے کے لیے 999 کا نمبر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کو رہائش، ملازمت یا نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایسے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔






