کینیڈا کے امیگریشن قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جن کا مقصد سرحدی سکیورٹی مضبوط بنانا اور امیگریشن نظام کو زیادہ شفاف بنانا بتایا گیا ہے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق قانون ’’اسٹرینتھننگ کینیڈاز امیگریشن سسٹم اینڈ بارڈرز ایکٹ‘‘ یعنی بل C-12 کے تحت امیگریشن درخواستوں، پناہ کے نظام اور سرکاری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے سے متعلق نئے ضوابط شامل کیے گئے ہیں۔
متن کے مطابق اس قانون کو 26 مارچ 2026 کو شاہی منظوری ملی اور اس کے بعد نافذ کردیا گیا۔
ویزا اور درخواستوں کی کارروائی روکنے کے اختیارات
نئے قانون کے تحت کینیڈین حکومت عوامی مفاد میں ورک پرمٹ، اسٹڈی پرمٹ، عارضی ویزا، الیکٹرانک ٹریول اجازت نامہ (eTA) اور مستقل رہائش (PR) کی نئی درخواستوں کی وصولی یا کارروائی عارضی طور پر روک سکتی ہے۔
قانون کے مطابق سکیورٹی خدشات، جعل سازی یا امیگریشن نظام میں خرابی کے خطرے کی بنیاد پر افسران کو پہلے سے جاری ویزوں اور قانونی دستاویزات کو معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
پناہ کی درخواستوں کے لیے سخت شرائط
فراہم کردہ معلومات کے مطابق پناہ کے نظام میں بھی نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔ 24 جون 2020 کے بعد کینیڈا میں داخل ہونے والے افراد کے لیے داخلے کے ایک سال کے اندر پناہ کی درخواست دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مدت گزرنے کے بعد درخواستیں ناقابل قبول تصور ہوسکتی ہیں۔
امریکہ کے ساتھ زمینی سرحد سے غیر مجاز راستوں کے ذریعے داخل ہونے والوں کو 14 دن کے اندر پناہ کی درخواست دینے کی شرط بھی بیان کی گئی ہے۔
درخواست ختم ہونے سے متعلق ضوابط
قانون کے تحت اگر درخواست دہندہ کینیڈا چھوڑ کر اپنے ملک واپس چلا جائے یا امیگریشن انٹرویوز اور مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے میں ناکام رہے تو اس کی درخواست ختم یا واپس لی ہوئی شمار کی جاسکتی ہے۔
مزید برآں، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان درخواست دہندگان کی رہائشی حیثیت اور پاسپورٹ سے متعلق معلومات کے تبادلے کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ جعل سازی اور نظام کے غلط استعمال کی نشاندہی کی جاسکے۔
کینیڈا جانے کے خواہشمند افراد کو درخواست دینے سے پہلے متعلقہ سرکاری امیگریشن ہدایات اور اپنے کیس پر لاگو شرائط کی تصدیق کرنی چاہیے۔






