سعودی اتحاد نے یمن میں حوثیوں کے عسکری وسائل کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی آپریشن کیا، جبکہ الحدیدہ میں حملوں سے سات افراد زخمی ہو گئے۔
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے سعودی اتحاد نے ایک فوجی آپریشن کیا، جس میں ان وسائل کو نشانہ بنایا گیا جنہیں حوثی ملیشیا اپنی جنگی کوششوں کی معاونت کے لیے استعمال کرتی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ اس ٹارگٹڈ آپریشن کا مقصد حوثی ملیشیا کی جانب سے بار بار حملوں، یمن، سعودی عرب اور بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں جہازرانی کے راستوں کو درپیش خطرات کے لیے استعمال ہونے والے اہم وسائل کو غیرمؤثر بنانا تھا۔
ترکی المالکی نے بیان میں کہا کہ حوثی ملیشیا اپنی عسکری صلاحیتوں خصوصا بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو مضبوط بنانے کے لیے اہم وسائل کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یمن اور سعودی عرب میں عام شہریوں اور سول انفرا اسٹرکچر پر منظم اور دانستہ حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حوثی ملیشیا نے عام شہریوں اور سول انفرا اسٹرکچر پر حملے جاری رکھے تو اسے اس کے نتائج بھگتنے ہوں گے۔
دوسری جانب، حوثی سے وابستہ المسیرہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ یمن کے حوثی کنٹرول والے صوبہ الحدیدہ میں سعودی زیر قیادت اتحاد کے فضائی حملوں کے بعد 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ راس عیسیٰ بندرگاہ پر حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے، جبکہ باجل ڈسٹرکٹ میں ایک آئل کمپنی پر کارروائی کے دوران 3 دیگر افراد زخمی ہوئے۔






