تازہ ترین
مریم نواز کا بڑا ایکشن، چودھری سالک حسین، نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسالایران پر جوہری حملے کا خدشہ؟ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات کی ویڈیو سامنے آگئی، 24 گھنٹے پناہ گاہ میں رہنے کا مشورہمفتی محمود مرکز یا ذاتی و سیاسی مفادات کا مرکز؟ لیبیا کے عطیات سے تعمیر شدہ عمارت کے استعمال پر سنگین سوالاتفضل الرحمان کے مالی معاملات کے مبینہ فرنٹ مین کون؟ سیاسی اثر و رسوخ، کاروباری شخصیات اور مالی مفادات کا معاملہ پہلی بار منظر عام پرپاؤں میں جلن، سن ہونا اور سوئیاں چبھنے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ وجوہات، تشخیص اور احتیاطی تدابیرچوہدری سالک صرف ہوائی الزامات نہ لگائیں، ثبوت لائیں، ورنہ عدالتوں میں گھسیٹوں گی، مریم نوازبھیجا ہوا میسج بار بار پڑھنے کی عادت کیوں ہوتی ہے؟ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی اور ڈیجیٹل رویےحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئیمریم نواز کا بڑا ایکشن، چودھری سالک حسین، نعیم اشرف بٹ اور اے آر وائی انتظامیہ کو قانونی نوٹس ارسالایران پر جوہری حملے کا خدشہ؟ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات کی ویڈیو سامنے آگئی، 24 گھنٹے پناہ گاہ میں رہنے کا مشورہمفتی محمود مرکز یا ذاتی و سیاسی مفادات کا مرکز؟ لیبیا کے عطیات سے تعمیر شدہ عمارت کے استعمال پر سنگین سوالاتفضل الرحمان کے مالی معاملات کے مبینہ فرنٹ مین کون؟ سیاسی اثر و رسوخ، کاروباری شخصیات اور مالی مفادات کا معاملہ پہلی بار منظر عام پرپاؤں میں جلن، سن ہونا اور سوئیاں چبھنے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ وجوہات، تشخیص اور احتیاطی تدابیرچوہدری سالک صرف ہوائی الزامات نہ لگائیں، ثبوت لائیں، ورنہ عدالتوں میں گھسیٹوں گی، مریم نوازبھیجا ہوا میسج بار بار پڑھنے کی عادت کیوں ہوتی ہے؟ ذہنی دباؤ، خود اعتمادی اور ڈیجیٹل رویےحکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
دنیا

افغانستان آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں 175ویں نمبر پر پہنچ گیا

آزادیٔ صحافت

افغان طالبان رجیم کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کا قاتل قرار دے دیا گیا، آزاد صحافت پر سخت پابندیاں اور قدغنیں مسلسل برقرار ہیں۔

عالمی میڈیا واچ ڈاگ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جاری کردہ تاز ترین رپورٹ کے مطابق افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ آزادیٔ صحافت پر قدغنیں لگانے والے 33 عالمی شخصیات کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض افغان طالبان رجیم نے 20 سے زائد حکومتی نوٹیفیکشن اور متعدد صوبائی احکامات کے ذریعے افغان میڈیا کو سخت گیر پابندیوں میں جکڑ دیا ہے۔

آر ایس ایف کے مطابق طالبان رجیم کی بدترین پابندیوں میں حکومت پر تنقید، خواتین کے حقوق، سیاسی بحث اور جانداروں کی تصاویر نشر کرنے پر پابندیاں شامل ہیں۔

طالبان رجیم کی ان بدترین پابندیوں کے باعث افغانستان آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں 180 ممالک میں 175ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اگست 2021 سے اب تک طالبان رجیم 74 سے زائد میڈیا کارکنوں کو گرفتار کر چکی ہے، جبکہ رواں سال بھی 6 صحافی حراست میں لیے گئے۔

جنوری 2026 کے نئے ضابطۂ فوجداری کے تحت طالبان رہنماؤں کی توہین پر قید اور کوڑوں کی سزا مقرر کی گئی ہے اور ہر قسم کے اختلافِ رائے کو بھی جرم بنا دیا گیا ہے۔