سندھ کے صوبائی وزیر کھیل نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے سندھ کے کرکٹرز کو میرٹ پر قومی ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سردار محمد بخش خان مہر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دو ٹوک اور سخت ترین پیغام جاری کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ محسن نقوی آخر سندھ کے باصلاحیت کرکٹرز کا راستہ کب تک روکیں گے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ سندھ کے یہ باصلاحیت نوجوان اگر اب بھی خاموش ہیں تو زیادہ دیر خاموش نہیں رہیں گے، لہٰذا سندھ کے نوجوانوں کو کھیل کے میدان میں ہی اپنی طاقت، صلاحیت اور گرمی دکھانے دی جائے، ایسا نہ ہو کہ پھر حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کرکٹ کی بھاگ دوڑ کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، جو کرکٹ کی ساخت اور باریکیوں سے واقف ہو۔ کرکٹ بورڈ کے سربراہ کا یہ فرض ہے کہ وہ میرٹ کی بنیاد پر تمام صوبوں کے کھلاڑیوں کو یکساں موقع فراہم کرے۔
صوبائی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ پی سی بی کے موجودہ نظام میں راتوں رات بہترین پرفارمنس دینے والا کھلاڑی ٹیم سے باہر کر دیا جاتا ہے جبکہ ناکام اور فیل کرکٹرز کو قومی ٹیم میں دوبارہ جگہ مل جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کئی بار محسن نقوی کے سامنے سندھ کے قابل کرکٹرز کی میرٹ پر شمولیت کا معاملہ اٹھا چکے ہیں، انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے کے باوجود شاہنواز دھانی جیسے کھلاڑی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہی ناانصافی برقرار رہی تو سندھ کا اپنا الگ کرکٹ بورڈ ہونا چاہیے، اس مقصد کے لیے سیکریٹری اسپورٹس قانونی گنجائش تلاش کریں۔






