امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں نشستوں کے لیے کانٹے کا مقابلہ ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 45 اور ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی 36 نشستیں ہو گئی ہیں، جبکہ سینیٹ میں کسی بھی پارٹی کو برتری کے لیے 51 نشستیں درکار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس نے شمالی کیرولائنا میں سینیٹ کی اہم نشست ری پبلکنز سے چھین لی ہے، جہاں سے ڈیموکریٹ امیدوار رائے کوپر سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔
نبراسکا سے آزاد امیدوار ڈین اوسبون کامیاب قرار پائے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق ٹرمپ ممکنہ انتخابی شکست کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں اور انہوں نے کم توقعات کا اظہار کیا ہے، جبکہ اسکائی نیوز کے مطابق ری پبلکنز کے لیے الیکشن کی رات انتہائی خراب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایوان نمائندگان کے ابتدائی نتائج میں ڈیموکریٹس کے نام 91 نشستیں آ چکی ہیں جبکہ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی نے ایوان نمائندگان کی 50 نشستیں جیت لی ہیں۔
فلوریڈا، کینٹکی، جارجیا، اوہائیو، ورمونٹ، ٹیکساس، ورجینیا، نیوجرسی اور میساچوسٹس سے مختلف جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان میں کسی بھی پارٹی کو برتری کے لیے 218 نشستیں درکار ہیں۔






