بابر اعظم کا کہنا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں، سری لنکا کے خلاف سیریز میں سینئرز اور جونیئرز کے کمبینیشن کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ جو گزر گیا اس پر بات نہیں کرنی بلکہ غلطیوں سے سیکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب پوچھ رہے ہیں کہ ہماری ٹیسٹ ٹیم میں اتنے نوجوان کھلاڑی کیوں شامل ہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے دورہ انگلینڈ کے دوران ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 7 سے 8 کھلاڑی ینگ ٹیلنٹ پر مشتمل ہیں، جو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر آرہے ہیں اور بہترین فارم میں ہیں۔ ہم سری لنکا کے خلاف سیریز میں سینئرز اور جونیئرز کے کمبینیشن کے ساتھ جائیں گے اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیں گے۔
اپنی پرفارمنس کے حوالے سے اسٹار بلے باز کا کہنا تھا کہ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا، بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ میں اپنی غلطیوں کے بارے میں سوچتا ہوں اور جتنا زیادہ کھیلوں گا اتنا ہی بہتری کی طرف جاؤں گا۔
بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ ان سے توقعات کے مطابق پرفارمنس نہیں ہو رہی لیکن ان کے پاس پریکٹس اور سخت محنت کا راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دورہ انگلینڈ میں جو ہوا، وہ سب کے سامنے ہے اور ہر چیز بتانا ضروری نہیں ہوتا۔ سلیکٹرز اور کوچ نے ٹیم منتخب کی ہے، جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں میں سلیکٹرز کے سامنے بات کرتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے لیے ہر سیریز ضروری ہوتی ہے اور کوشش یہی ہوتی ہے کہ میدان میں بہتر فیصلے لوں اور میچ جتواؤں۔ ہم موجودہ ٹیسٹ چیمپئن شپ سے باہر ہو چکے ہیں اور اب اگلی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں بابر اعظم نے کہا کہ محمد یوسف ایک لیجنڈ اور پاکستان کے بہترین کھلاڑی ہیں، فی الحال ان سے رابطہ نہیں ہوا لیکن جب بھی رابطہ ہوگا تو ان سے ضرور سیکھوں گا۔
دوسری جانب پریس کانفرنس میں موجود سری لنکن کپتان کوشل مینڈس نے کہا کہ ان کے تمام کھلاڑی پاکستان کے خلاف سیریز کے لیے مکمل تیار ہیں۔
انہوں نے پاکستان میں سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کی تعریف کی اور کہا کہ ان کی ٹیم کو پاکستانی کھانے بہت پسند ہیں اور ان کے پاس اچھے بلے باز موجود ہیں۔






